علماء کا راست اقدام کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
علماء نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ کراچی میں ہلاک ہونے والے مذہبی علماء کے قاتلوں کو اگر پندرہ روز کے اندرگرفتار نہ کیاگیا تو راست اقدام کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی میں اتوار کے روز منعقدہ علماء کنونشن میں کیاگیا۔ کنونشن سے مولانا سلیم اللہ خان، مفتی محمد تقی عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندری، قاری محمد عثمان، مولانا سعد تھانوی، سمیت دیگر علماء نے شرکت کی۔ کنونشن میں منظور کی گئی قراردادوں میں علماء کے قتل اور مدارس و مساجد پر حملوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اس سے مدرسہ انوار القران، مدرسہ رحمانیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جامعۃ العلوم اسلام، جامعہ فاروقیہ، جامعۃ الرشید، جامعہ بنوریہ سمیت کئی مذہبی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ علماء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوئی موثر کارروائی کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کنونشن میں علماء کے قتل، مساجد اور مدارس پر حملوں اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف علاوہ ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ بھی کیاگیا۔ اس موقع پر مفتی محمد نعیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو مفتی عتیق الرحمان، مفتی شمس الدین اور اسے قبل قتل ہونے والے علماء کے مقدمات کا ازسرنو جائزہ لےگی اور ان معاملات کو مضبوط طریقے سے حکومت کے سامنے پیش کرے گی۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سعد تھانوی، قاری محمد عثمان، مفتی محمد نعیم نے کہا کہ کنونشن میں علما کے قتل کے خلاف راست اقدام کے لیے ابتدائی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن میں ملک بھر کے چھ ہزار مساجد و مدارس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل سنیچر کے روز کراچی میں علما ومشائخ کانفرنس بھی منعقد ہوئی تھی۔ جس کی صدارت مولانا شاہ احمد نورانی کے بیٹے علامہ محمد انس نورانی نے کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||