کراچی: مذہبی رہنماء کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے اورنگی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک مذہبی عالم کو قتل کردیا ہے۔ واردات کے بعد علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اورنگی ٹاؤن کے سیکٹر گیارہ میں واقع مدرسے حنفیہ کے سینئر استاد مولوی شمس الدین معمول کے مطابق فجر کی نماز کے بعد اورنگی کے علاقے میں واقع ایک دوسرے مدرسے میں درس دینے جارہے تھے کہ موٹرسائیکل سوار افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد شاہراہ اورنگی پر علی گڑھ بازار کے پاس ان کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے انہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے۔ان کو جسم کے مختلف حصوں پر آٹھ گولیاں لگی ہوئی تھی۔ پولیس کو شک ہے کہ واردات میں استعمال کیاگیا اسلحہ سائلینسر والا ہے کیونکہ علاقے میں کسی نے بھی فائرنگ کی آواز نہیں سنی۔ اطلاع ملنے پر مدرسے کے طلباء اور علاقے کے لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید ہسپتال پہنچائی گئی۔ مولوی شمس الدین پنجاب کے ضلع بھکر کے رہنے والے تھے اور کافی عرصے سے اس مدرسے میں مذہبی درس دیتے تھے۔ اور اسی مدرسے میں رہتے تھے۔ کراچی شہر میں ایک ماہ کے دوران یہ تیسرے مذہبی عالم ہیں جنہیں دہشتگردی کی واردات میں قتل کیاگیا ہے۔ اس سے پہلے مفتی عتیق الرحمان اور ان کے ساتھی مولانا ارشادالحق کو مصروف علاقے برنس روڈ پر قتل کردیا گیا تھا۔ تازہ ترین واردات شہر میں اس وقت ہوئی ہے جب ملک کے وزیر اعظم شوکت عزیز کراچی میں موجود ہیں۔ جبکہ سنیچر کی شام ہی علماء اور مشائخ کی کانفرنس بھی منعقد کی گئی ہے جس میں علماء کے قتل پر حکمت عملی وضح کی جانی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||