مفتی عتیق قتل، دو ملزم گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذہبی عالم مفتی عتیق الرحمان اور ان کے ساتھی مولانا ارشاد الحق کے قتل کے الزام میں ایک کالعدم شدت پسند تنظیم کے دو کارکنوں کوگرفتار کر لیاگیا ہے۔ مفتی عتیق الرحمان ان کے بیٹے عمار اور مولانا ارشاد الحق پر مسلح افراد نے تئیس جون کو برنس روڈ پر حملہ کردیا تھا جس میں مفتی عتیق الرحمان موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جب کہ باقی دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔ مولانا ارشادالحق زحموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے گرفتاری ظاہر نہیں کی۔اس کیس کے تفتیشی افسرطارق اعوان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گرفتاری نہیں کی اگر کسی اور نے کی ہے کہ تو ان کے علم میں نہیں ہے۔ جامعہ بنوریہ کے ترجمان قاری سیف اللہ نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دوملزماں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جبکہ اس کے تفصیلات ایک دن کے بعد جاری کی جائے گی۔ قاری سیف اللہ کے مطابق پولیس نے ان کو گرفتاریوں سے آگاہ کیا ہے۔ ایک مقامی انگریزی اخبار کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق کاالعدم تنظیم سپاہ محمد سے ہے۔ یاد رہے کہ سپاہ محمد پاکستان سنہ انیس سو تیرانوے میں وجود میں آئی تھی جس کے سربراہ مولانا مرید عباس یزدانی تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||