کریک ڈاؤن، مشرف کا قوم سے خطاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف جمعرات کی رات پاکستانی وقت کے مطابق آٹھ بجے سرکاری ٹیلیوژن پر قوم سے خطاب کریں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ اس خطاب میں وہ لندن بم دھماکوں کے تناظر میں پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کے علاوہ امکانی طور پر کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کریں گے۔ ماضی میں سن دو ہزار اور دو ہزار دو میں بھی صدر جنرل مشرف نے کالعدم تنظیموں کے خلاف پابندیوں اور کاروائی کا اعلان کیا تھا جو وقتی طور پر تو موثر ثابت ہوا تھا مگر بعد میں کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے دوبارہ سرگرم ہو گئی تھیں۔ گزشتہ ہفتے صدر نے کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف ملک گیر مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا اور ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ اس مہم کو موثر بنائیں۔ اس مہم میں تقریبا دو سو چالیس سے زائد افراد کو ملک بھر سے گرفتار کیا جا چکا ہے اور کئی جریدوں کے دفاتر مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں بند کیے جا چکے ہیں۔ ایک سینیئر سیکیورٹی افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران گرفتار کیے افراد سے متعلق چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور ان میں سے کوئی بھی لندن بم دھماکوں میں ملوث نہیں ہے۔ تاہم اسلام آباد میں بی بی سی کے نمائندے ظفر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی حکام کو یقین ہے کہ اس کریک ڈاؤ ن کے نتیجے میں وہ ان افراد کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جن کا لندن بم دھماکوں سے تعلق ہے۔ ملکی سطح سے زیادہ اس خطاب پر بیرونی دنیا کی نظریں گڑی ہوئی ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث چار میں سے تین مبینہ خودکش بمبار گزشتہ برس پاکستان آئے تھے، پاکستان کے مدارس اور پاکستانی حکومت کے انتہا پسندی کے خلاف اقدامات دنیا کی نظروں کا مرکز بن چکے ہیں اور انہیں اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ خود صدر مشرف برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ لندن بم دھماکوں کی تفتیش میں برطانوی حکام کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ اب کیا صدر جنرل پرویز مشرف کا خطاب بین الاقوامی سطح پر پاکستانی مدارس اور کالعدم تنظیموں کے بارے میں خدشات کا ازالہ کر پائے گا یہ تو صدر کے خطاب کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||