BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 August, 2005, 23:00 GMT 04:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقامی انتخابات، تریپن اضلاع میں پولنگ

الیکشن
الیکشن کے دوران اب تک گوجرانوالہ میں تشدد کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں
فوج کی بھاری موجودگی میں جمعرات کو ملک کے چاروں صوبوں کے ترپن ضلعوں میں یونین کونسلوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں مقامی انتخابات بدھ کے روز ملتوی کردیے گئے ہیں۔ ملک کے باقی چھپن ضلعوں میں پچیس اگست کو ووٹنگ ہوگی۔

جمعرات کو صوبہ سرحد کے بارہ، صوبہ پنجاب کے سترہ، صوبہ سندھ کے دس اور صوبہ بلوچستان کے چودہ ضلعوں میں یونین کونسلوں کے انتخابات کے لیے پولنگ ہوگی جہاں تین کروڑ بیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ان ضلعوں کی تین ہزار چھیاسٹھ یونین کونسلوں کی انتالیس ہزار آٹھ سو انسٹھ نشستوں کے انتخابات کے لیے ایک لاکھ دس ہزار امیدوار میدان میں ہیں۔

 چالیس ہزار فوجی جوان مقامی انتخابات کے موقع پر امن و امان قائم رکھنے کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے چاروں صوبوں کے پچپن ضلعوں میں روانہ ہوچکے ہیں۔
میجر جنرل شوکت سلطان

مقامی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے جارہے ہیں۔ تاہم سرکاری مسلم لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتیں ان میں مختلف ناموں سے بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔

آج جن ضلعوں میں پولنگ ہورہی ہے ان میں کراچی، ملتان، گوجرانوالہ اور پشاور کے شہری اضلاع بھی شامل ہیں جہاں امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان

News image
پولنگ کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی چوکس رہیں گے
کے مطابق تقریباً چالیس ہزار فوجی جوان مقامی انتخابات کے موقع پر امن و امان قائم رکھنے کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے چاروں صوبوں کے پچپن ضلعوں میں روانہ ہوچکے ہیں۔ بدھ کی سہ پہر ملتان شہر میں فوجی دستوں نے فلیگ مارچ کیا۔

وزیراعلی سندھ ارباب رحیم نے کہا ہے کہ رینجرز، فوج اور پولیس کے کمانڈوز ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حساس پولنگ مراکز کی نگرانی کریں گے۔

کراچی کے ڈپٹی انسپکٹر پولیس آپریشنز مشتاق شاہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس فائرنگ سمیت تمام اختیارات استعمال کرے گی۔ کراچی میں متحدہ قومی موومینٹ اور جماعت اسلامی کے درمیان مقامی انتخابات کے موقع پر شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور خون خرابہ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے موقع پر کراچی میں وی آئی پیز کو دی گئی تمام موبائل حفاظتی دستے واپس لے لیے گئے ہیں۔

پنجاب میں گوجرانوالہ میں الیکشن سے وابستہ تشدد کے واقعات کی تعداد سب جگہوں سے زیادہ رہی ہے اور بدھ کے روز بھی وہاں یونین کونسل تہتر میں دو امیدواروں کے گروہوں میں فائرنگ کے تبادلہ میں گیارہ افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک امیدوار کے بھائی کو گولی مار کر ہلاک کردیاگیا۔

منگل کے روز راولپنڈی میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے حامیوں کے درمیان انتخابی اسٹکرز لگانے کے مقاملہ پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے دو شخص ہلاک ہوگئے ہیں اور تین افراد شدید زخمی ہیں۔ متحدہ حزب مخالف نے حکومت پر راولپنڈی میں مخالف امیدواروں کو ہراساں کرنے اور اس کے بارہ افراد کو حراست میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

News image
انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں

بدھ کی شام فیصل آباد کے قریب گوجرہ قصبہ کے نواحی گاؤں میں بھی دو مخالف امیدواروں میں فائرنگ کے تبادلہ میں دو افراد ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔

پنجاب میں محکمہ داخلہ کی طرف سے دو ہزار اننچاس پولنگ مراکز کو امن و امان کے اعتبار سے حساس ترین جبکہ تین ہزار آٹھ سو اکسٹھ کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب میں سترہ ضلعوں میں کُل سترہ ہزار چار سو اٹھائیس پولنگ مراکز ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق کوئی وفاقی یا صوبائی وزیر، مشیر اور پارلیمانی کمیٹی کا چئرمین سمیت کوئی غیر متعلقہ شحص کسی پولنگ اسٹیشن کے اندر پروٹوکول کے ساتھ نہیں جاسکے گا اور نہ کوئی شخص پولنگ مرکز میں موبائل فون لے جاسکے گا۔ وزراء اور دوسرے حکومتی عہدیدار صرف اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ مرکز میں جاسکیں گے۔

گھوٹکی ضلع کی تقسیم کرنے اور سات نئی یونین کونسلیں بنانے کے خلاف پیپلز پارٹی نے ہائیکورٹ میں درخواست دی تھی جس پر ہائیکورٹ نے ان یونین کونسلوں میں الیکشن کرانے کا حکم دیا۔ تاہم سندھ حکومت کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے وہاں انتخابات ملتوی کردیے۔ یہاں انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

News image
کراچی، ملتان، گوجرانوالہ اور پشاور کے شہری اضلاع میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے۔

جن ضلعوں میں ووٹنگ ہوگی وہاں حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جگہوں پر معمول کے مطابق کام ہوگا۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے پانچ بجے تک بلا وقفہ ہوگی۔

ملک بھر میں جن ترپن اضلاع میں پولنگ ہورہی ہے وہاں گیارہ سو سات نشستیں خالی رہ گئی ہیں جن پر کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔پنجاب میں آٹھ امیدوار انتخابی مہم کے دروان میں انتقال کرگئے جس سے ان جگہوں پر انتخاب ملتوی کردیا گیا ہے۔

مسلم لیگ(نواز گروپ) نے مقامی انتخابات کے پہلے مرحلہ سے پہلے ایک وائٹ پیپر جاری کیا ہے جس میں حکومت پر انتخابات سے پہلے دھاندلی کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مستقل چیف الیکشن کمشنر مقرر نہ کرکے آئین کے آرٹیکل دو سو تیرہ کی خلاف ورزی کی ہے۔

پنجاب کے جن ضلعوں میں آج انتخابات ہورہے ہیں ان میں گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، خوشاب، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، لودھراں، خانیوال، ساہیوال، پاکپتن، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، لیہ اور رحیم یار خان شامل ہیں۔

سندھ کے دس ضلعوں میں جہاں آج انتخابات ہورہے ہیں کراچی، تھٹھہ، ٹنڈو اللہ یار، نوشہرو فیروز، جیکب آباد، کشمور، میرپور خاص، عمر کوٹ سانگھڑ، تھر پارکر شامل ہیں۔ صوبہ سرحد کے بارہ ضلعوں پشاور، چار سدہ، مردان، نوشہرہ، صوابی، کوہاٹ، کڑک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، ہری پور اور بنیر میں آج انتخابات ہورہے ہیں۔

News image
کراچی میں امیدواروں کے ویران کیمپ

بلوچستان کے چودہ ضلعوں میں آج پولنگ ہورہی ہے جن میں خضدار، مستونگ، خاران، آواران، پشین، نوشکی، سبی، زیارت، بولان، نصیر آباد، جعفرآباد، قلعہ سیف اللہ، بارخان اور گوادر شامل ہیں۔

صوبے کے اٹھائیس اضلاع میں آٹھ سو پانچ امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں جس میں نواب اکبر بگٹی کا مضبوط گڑھ ڈیرہ بگٹی شامل ہے جہاں تمام چودہ یونین کونسل کے تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر چوہدری قمر زمان نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں مد مقابل امیدوار آئے ہی نہیں اور اگر آئے تو انھوں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے تھے۔ صوبے میں ایک سو چھپن نشستیں خالی رہ گئی ہیں جن میں ایک سو چوالیس اقلیتوں کی نشستیں ہیں۔

پہلے مرحلے میں انتخابات پشین، جعفر آباد، خاران، نوشکی، قلعہ سیف اللہ، بارکھان، سبی، زیارت، نصیر آباد، بولان، مستونگ، گوادر، بولان، خضدار اور آوارن میں ہو رہے ہیں۔ ان میں چھ اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جن میں بارکھان، بولان، نصیر آباد، جعفر آباد، خضدار اور آواران شامل ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ خان نےصوبائی الیکشن کمشنر کے حوالے سے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد ان اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے جہاں نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں جنھیں پولیس اور بلوچستان ریزرو پولیس کی معاونت حاصل ہو گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی وقت فوج کو بھی طلب کر سکتی ہے۔

بلوچستان کے اٹھائیس اضلاع میں سات ہزار تین سو اکہتر نشستوں کے لیے سولہ ہزار چار سو اٹھائیس امیدوار میدان میں ہیں جن کے لیے تیرہ سو چون پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں سات ہزار چھ سو چھیانوے امیدوار میدان میں ہیں جو مختلف نشتوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔

یونین کونسلوں کے لیے منتخب ہونے والے تقریبا اسی ہزار کونسلرز، ناظم اور نائب ناظم انتیس ستمبر کو مقامی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلہ میں تحصیل کونسلوں اور ضلع کونسلوں کے ناظموں اور نائب ناظموں کا انتخاب کریں گے۔اس سے پہلے سنہ دو ہزار اور دو ہزار ایک میں مقامی حکومتوں کے نئے نظام کے تحت چار مرحلوں میں پولنگ کرائی گئی تھی جن میں مجموعی طور پر ملک میں چھپن فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

66 بیٹھو گے یا لیٹو گے؟
انتخابی کشمکش پر شاہ زیب جیلانی کی ڈائری
66 کس کے نمائندے؟
لو ٹرن آؤٹ میں منتخب کس کے نمائندہ ہوں گے؟
66ضلعی انتخابات شروع
بلا مقابلہ امیدوار اورغیر ووٹر خواتین
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد