ضلع گھوٹکی میں انتخابات ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر کے آبائی ضلع گھوٹکی میں جمعرات اٹھارہ اگست کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے ہیں۔ اکیشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کیا گیا ہے اور انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے حامی عوام دوست پینل کے امیدواروں ذوالفقار علی نے حکومت سندھ کی جانب سے ضلع گھوٹکی میں سات یونین کونسلز کے اضافے کو سندہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جس پر عدالت نے اضافی یونین کونسلز کے قیام کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ نئی یونین کونسلوں کا قیام قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں کیا گیا ہے۔ کیونکہ نئی یونین کونسلوں کی آبادی ضلع کی دیگر پینتیس یونین کونسلوں کی آبادی سے کم ہے۔ اور ان کا قیام پسند کے ضلع ناظم کے حامی اراکین کو بڑھانا ہے۔ عدالت نے درخواست کو منظور کرتے ہوئےانتخابات روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ گھوٹکی ضلع میں آٹھ یونین کونسلوں میں ناظم بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں جبکہ غیر قانونی قرار دی جانے والی ایک یونین کونسل میں ناظم اور نائب ناظم سمیت تمام کونسلرز بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||