الیکشن: تشدد میں 6 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک خاتون امیدوار کے انتخابی جلسے میں دستی بموں کے حملے اور فائرنگ سے کم از کم چھ افراد ہلاک اور پندرہ کے قریب زخمی ہوگئے۔ گوجرانوالہ کا شمار پنجاب کے ان دس شہروں میں ہوتا ہے جنہیں الیکشن کمشن نے امن وامان کے لحاظ سے حساس قرار دیتے ہوۓ وہاں فوج تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔ گوجرانوالہ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ محلہ گورے والا میں یہ فائرنگ جمعرات کی شب اس وقت ہوئی جب یونین کونسل ایک سو تیرہ سے ناظم کے عہدے کی خاتون امیداور ثانیہ اقبال بٹر کا انتخابی جلسہ ہو رہا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور پنڈال میں عورتوں کی نشستوں والی جانب سے داخل ہوۓ اور انہوں نے کلاشنکوف سے فائرنگ کی جس سے پنڈال میں بھگدڑ مچ گئی۔ جلسہ گاہ میں موجود دس سالہ بچے سمیت چھ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک مبینہ حملہ آور بھی شامل تھا جو پولیس کے بقول امیداوروں کے ذاتی گن مینوں کی فائرنگ کی زد میں آگیا تھا۔ زخمیوں کو گوجرانوالہ کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے جن میں سے دوکی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ ہسپتال کے ڈیوٹی میڈیکل افسر ڈاکٹر جمیل نے چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوۓ کہا ہے کہ زخمیوں کو دستی بموں اور کلاشنکوف کی گولیوں سے زخم آۓ ہیں اور دو افراد جن کی حالت نازک تھی انہیں لاہور کے میو ہسپتال بھجوادیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ میں اس سے پہلے بھی بلدیاتی انتخابات کی رنجش میں الگ الگ واقعات میں دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ الیکشن کمشن اور حکومت پنجاب نے گوجرانوالہ سمیت صوبے کے دس شہروں لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی سرگودھاڈیرہ غازی خان،راجن پور، جھنگ اور بہاولپور کو امن وامان کے لحاظ سے حساس قرار دے رکھا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے یہاں فوج کی نگرانی میں الیکشن کرائے جائیں گے۔ پاکستان میں ان دنوں بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں اور ملک بھر میں دو مرحلوں میں یعنی اٹھارہ اور پچیس اگست کو پولنگ ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||