کیچ: 7 کونسلوں کے بارے میں شکایات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان حکومت کے وزراء پر بلدیاتی انتخابات میں مخالف جماعتوں کے امیدواروں کے اغواء اور ان کے فارم رد کروانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کراچی پریس کلب میں جمعرات کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قوم پرست رہنما اور نیشنل پارٹی کے چیف آرگنائزر میر حاصل خان بزنجو نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان حکومت نے الیکشن سے قبل دھاندلیوں کی انتہا کردی ہے۔ ہمارے امیدواروں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ کیچ سے امیدواروں کو اغواء کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیچ ضلع میں حکام نے ہمارے اٹھائیس امیدواروں کے فارم رد کروائے۔ ان امیدواروں میں ناظم، نائب ناظم اور کونسلر کے امیدوار شامل ہیں۔ میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ صوبائی وزراء احسان شاھ اور اصغر رند نے ان کے امیدواروں کو اغواء کروایا اور ان کو عدالت بھی میں پہچنے نہیں دیا گیا اور ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسران اور اسٹنٹ افسران نے آدھے گھنٹے میں اپیلیں نمٹادیں۔ انہوں نے کہا کہ کیچ کے ڈی آر او جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ان کو حکومت نے الیکشن سے قبل رشوت میں گوادرپورٹ پر دو پلاٹ الاٹ کیے ہیں۔ میر حاصل کے مطابق انہوں نے بی این پی مینگل اور جمہوری وطن پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔ جس سے مخالف ڈرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ہتھکنڈوں سے نہ تو ہم الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرینگے نہ ہی فوج کی نگرانی میں انتخابات کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بلوچ رہنما نے مطالبہ کیا کہ کیچ ضلع کی سات یونین کونسل گومازی، نودز، کھڈان، بلنگور، شھرک، کنچتی اور ہوشاب میں انتخابات ملتوی کیے جائیں اور پھر سے الیکشن کروائی جائے۔ جبکہ ہمارے امیدواروں کے اغواء کا مقدمہ صوبائی وزرا احسان شاھ اور اصغر رند خلاف درج کیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||