سیاسی جماعتیں: متبادل شناختیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ اور پچیس اگست کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی شرکت ممنوع اور سیاسی وابستگی کا اظہار قانوناً جرم ہے۔ انتخابات میں اکـثر سیاسی جماعتیں بالراست حصہ لے رہی ہیں لیکن قانون سے بچنے کے لیے امیدواروں نے اپنے چولے بدل لیے ہیں۔ شناسائے راز ہونے کا دعویٰ کرنے والے بتاتے ہیں کہ: خوشحال پاکستان کے امیدواروں کا تعلق دراصل حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) سے ہے۔ پیپیلز پارٹی سے وابستہ امیدوار عوام دوست کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ وطن نواز مسلم لیگ (ن) کے لوگ ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیدوار الخدمت کے نام استعمال کر رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار اپنے آپ کو حق پرست کہتے ہیں۔ جمیعت علماء پاکستان والے الخادم کا ٹائٹل استعمال کر رہے ہیں۔ جمیعت علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) والے انسان دوست کے نام سے شامل ہیں۔ جمیعت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) کا نام شریعت گروپ ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کی شناخت خدمت گار بتائی جاتی ہے۔ نظام مصطفے پارٹیکے امیدواروں نے اپنے آپ کو غریب نواز کہتے ہیں۔ تحریک انصاف والے انصاف پسند ہیں۔ پیر پگارو کی مسلم لیگ کے امیدوار اپنے آپ کو فقیر دوست کہلا رہے ہیں۔ دیگر گروپوں میں المدد، وطن دوست وغیرہ شامل ہیں۔ کراچی میں پیپیلز پارٹی کے عوام دوست، جماعت اسلامی کے الخدمت، جمیعت علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے انسان دوست اور جمیعت علماء پاکستان کے الخادم گروپوں نے تعمیر کراچی اتحاد کے نام سے ایک مشترکہ گروپ بھی تشکیل دیا ہے۔ رٹرننگ افسران کسی گروپ کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کے پابند نہیں ہیں لیکن ان گروپوں سے وابستہ امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں گروپ کا طے کردہ انتخابی نشان حاصل کرنے کی کوشش ضرور کر تے دیکھےگۓ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||