BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 August, 2005, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلامقابلہ منتخبوں کی بڑھتی تعداد

گجرات
چودھری شجاعت حسین گروپ کے بارہ ناظم اور نائب ناظم بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں
حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے آبائی ضلع اور حلقہ انتخاب گجرات میں اب تک بارہ یونین کونسلوں کے مقامی انتخابات میں چودھری شجاعت حسین گروپ کے بارہ ناظم اور نائب ناظم بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں اور آئے روز دستبرداریوں کے اعلانات کے ساتھ ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

حزب اختلاف کے عوام دوست گروپ کا کہنا ہے کہ ان کے امیدواروں کو ڈرا دھمکا کر دستبردار کرایا جارہا ہے جبکہ چودھری شجاعت گروپ کا کہنا ہے کہ مخالف پارٹی کے پاس ان کے مقابلہ کے لیے امیدوار ہی نہیں۔

یونین کونسلوں کے ناظم ضلع کونسل کے ناظم اور یونین کونسلوں کے نائب ناظم تحصیل کونسل کے ناظموں کا انتخاب کریں گے جو انتیس ستمبر کو ہوں گے۔ گجرات کی تین تحصیلوں۔ گجرات، کھاریاں اور سرائے عالمگیر۔ میں ایک سو سترہ یونین کونسلیں ہیں جہاں پچیس اگست کو دوسرے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔

جی ٹی روڈ پر واقع گجرات شہر میں داخل ہوتے ہی جگہ جگہ بڑے بڑے بورڈز لگے نظر آتے ہیں جن پر چودھری شجاعت حسین اور ان کے بھائی اور رکن قومی اسمبلی چودھری وجاہت حسین کی بڑی بڑی تصویریں مقامی انتخابات کے امیدواروں کے ساتھ بنی ہیں۔ انتخابی اشتہار کے ان بورڈز پر شجاعت گروپ لکھا ہے۔ گجرات کے تقریبا ایک درجن کے قریب مقامی اخباروں کے صفحے

News image
الیکشن کے موقع پر محکمہ ہائی کی جانب سے شائع کیا جانے والا ایک پوسٹر
شجاعت گروپ کے بڑے بڑے اشتہاروں اور چودھری برادران کی ان کے گروپ کے مقامی امیدواروں کے ساتھ تصویروں سے بھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

گو کہ الیکشن کمیشن کے قواعد کی رُو سے بل بورڈز لگانا یا مبینہ طور پر غیر جماعتی طور پر کرائے جانے والے مقامی انتخابات میں سیاسی شخصیتوں یا نشانات کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے لیکن مسلم لیگ گجرات کے ضلعی صدر چودھری طفیل کہتے ہیں کہ یہ بورڈز اس بات کا اظہار ہیں کہ چودھری شجاعت گروپ کے امیدوار صرف الیکشن لڑ ہی نہیں رہے بلکہ انہیں جیتنا بھی چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مخالف گروپ کے بورڈز اس لیے موجود نہیں کہ ان کے امیدواروں کو اپنی شکست کا علم ہے اور وہ پیسہ خرچ نہیں کرنا چاہتے۔

گجرات بظاہر کشادہ اور صاف ستھری سڑکوں کا شہر دکھائی دیتا ہے اور پنجاب کا واحد ضلعی مقام ہے جہاں ایک یونیورسٹی بھی کھولی گئی ہے۔ جی ٹی روڈ سے شہر میں داخل ہونے والی رابطہ سڑک کھدی ہوئی ہے جسے مزید چوڑا کرنے کے لیے کام جاری ہے اور وہاں پر ایک بورڈ پر لکھا ہے کہ یہ سڑک پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین تعمیر کروارہے ہیں۔

دراصل شجاعت گروپ ضلع میں گزشتہ چار سال میں کرائے جانے والے ترقیاتی کاموں کو ہی اپنے الیکشن کا بڑا نعرہ بنائے ہوئے ہے۔ مسلم لیگ کے چودھری طفیل کہتے ہیں کہ ان چار برسوں میں ضلع کے ناظم اور چودھری شجاعت کے بھائی چودھری شفاعت نے ہر شعبہ میں اتنے کام کرائے ہیں کہ یہ ضلع کی تاریخ کا بہترین دور ہے۔ گجرات شہر تک سوئی گیس کی بڑی پائپ لائن بھی بچھ گئی ہے اور ایک سال تک یہاں گھروں میں گیس مہیا کردی جائے گی۔ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور اضافی بستیوں تک بجلی پہنچادی گئی ہے۔

News image
پوسٹروں کی آرائش کی اپنی ایک حیثیت ہے

دوسری طرف حزب مخالف کی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(نواز) اور متحدہ مجلس عمل نے عوام دوست گروپ کے نام سے مشترکہ امیدوار کھڑے کیے ہیں اور اس گروپ کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی غضنفر گل کہتے ہیں کہ ان کا گروپ گجرات میں کرپشن مافیا اور لینڈ مافیا کے خلاف الیکشن لڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گجرات میں اس دور میں لوگوں کے عزیز قتل ہوئے ہیں، ان کی زمینوں پر قبضے کیے گئے ہیں، یہاں قیمتی کاروں پر ڈکیتیاں کی جاتی ہیں اور یہاں پر کوئی شخص محفوظ نہیں۔

اسی گروپ کے گجرات شہر میں انتخابی مہم کے نگراں فخر پگانوالہ کہتے ہیں کہ گجرات میں اندھیر نگری ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ اس کی سرپرستی چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری وجاہت حسین کرتے ہیں جن کے پاس اس علاقہ کا اصل اختیار اور اقتدار ہے اور ان کا مرکز نواحی گاؤں میں اپنے گھر اور ڈیرہ ہے۔

News image
انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی شرکت اور سیاسی شناخت پر پانبدی ہے

چودھری شجاعت گروپ کے رہنما چودھری طفیل ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کے سیاستدان علاقہ سے غیر حاظر رہتے ہیں اور ڈیرہ داری نہیں کرتے جس وجہ سے وہ مقبول نہیں۔ اور مخالف گروپ کے پاس بہت سی یونین کونسلوں میں اور خاص طور پر وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے صوبائی حلقہ کے اندر یونین کونسلوں میں ناظم اور نائب ناظم کے امیدوار ہی نہیں جہاں مسلم لیگ کے مقامی حمایتی ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑرہے ہیں۔

شجاعت گروپ کے رہنماء کا کہنا ہے کہ گجرات کی ایک سو سترہ میں سے بارہ یونین کونسلوں میں ان کے گروپ کے ناظم اور نائب ناظم کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے ہیں اور ان میں صرف ایک جگہ مدینہ سعیداں میں عوام دوست گروپ کا امیدوار تھا جو جعلی سند کی وجہ سے ناہل قرار دے دیا گیا۔ ان کے مطابق باقی سب جگہوں پر عوام دوست گروپ کا کوئی امیدوار ہی نہیں تھا۔

جن یونین کونسلوں میں شجاعت گروپ کے بلامقابلہ ناظم منتخب ہوئے ہیں ان میں ٹھل بکول، بھاگڑیاں والا، یو سی تینتالیس، جھیراں والی، بولے کی، ناگریاں والا، منگو والا، ٹھٹھہ موسی، حاجی والا، پیر شاہ، یو سی باسٹھ اورمدینہ سعیداں شامل ہیں۔

تاہم عوام دوست گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے امیدواروں کو ڈرا دھمکا کر اور انہیں اغوا کرکے انہیں دستبردار ہونے پر مجبور کیا جارہا ہے تاکہ سرکاری گروپ کے زیادہ سے زیادہ ناظموں کو بلا مقابلہ منتخب کرایا جائے۔ فخر پگانوالہ کا کہنا ہے کہ ان کے ایک امیدوار ارشد محمود بھٹی کو اغواکیا گیا۔ تین روز بعد اس نے ظہور پیلس میں جاکر چودھری وجاہت کی موجودگی میں مسلم لیگ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا اور اسٹامپ پیپر پر اپنی دستبرداری کا اعلان کردیا۔ یوں شجاعت گروپ کا امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگیا۔

اسی طرح تیرہ اگست کو گجرات میں پیپلز پارٹی یوتھ کے ضلعی صدر اور نائب ناظم کے ایک امیدوار میر انجم گھر سے غائب ہوگئے۔ ان پر پولیس نے شجاعت گروپ کے امیدوار کے باڈی گارڈز کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج کیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما الزام لگاتے ہیں کہ میر انجم کو دراصل دستبردار کرانے کے لیے اغوا کیا گیا ہے تاکہ بیلجئم سے گجرات آکر ناظم کا الیکشن لڑنے والے مہر افضل کو بلا مقابلہ منتخب کرایاجاسکے۔

News image
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پوسٹر پر چوہدری شجاعت کا نام لکھنا کامیابی کی ضمانت ہے

مسلم لیگ کے رہنما چودھری طفیل کہتے ہیں یہ الزامات جھوٹ ہیں اور جو بھی دستبردار ہوتا ہے اپنی مرضی سے ہوتا ہے، کوئی کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض کمزور لوگ دستبردار ہونے کے بعد اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بتانے کے لیے اغوااور دباؤ کی کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کے پاس تو امیدوار ہی نہیں اور مسلم لیگ کے مقامی لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔

گجرات کے دیہی علاقوں میں عوام دوست گروپ کی مہم کے نگراں نوابزادہ غضنفر گل کہتے ہیں کہ ان کے گروپ کے امیدواروں کو پولس کی حراست میں رکھ کر دستبردار کرایا جارہا ہے۔ وہ تھانہ جلال پور جٹاں اور تھانہ کنجاہ سے اس کی متعدد مثالیں دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حزب مخالف کے ووٹ خراب کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کی اسکیم تبدیل کی گئی ہے اور تیس تیس سال سے بنے والے پولنگ اسٹیشن تبدیل کردیے گئے ہیں۔

عوام دوست گروپ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ضلع میں ناظم کے پندرہ ناظم الیکشن کمیشن کو درخواست کرچکے ہیں کہ وہ اس ضلع کو حساس قرار دے اور پولنگ کے روز یہاں فوج تعینات کرے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ غضنفر گل کا کہنا ہے کہ پولنگ کے روز گجرات میں خون خرابہ ہونے جارہا ہے۔ فخر پگانوالہ کا کہنا ہے کہ شجاعت گروپ ہمیں بھی بندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ہے۔

دونوں گروپوں کے الزامات اور دعووں کا سچ جھوٹ کا فیصلہ تو شائد عدالتیں ہی کرسکتی ہیں لیکن ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ گجرات میں الیکشن کمیشن کے بعض قواعد پر عمل نہیں ہورہا اور فضا میں تناؤ اور کشیدگی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد