میرپورخاص میں تصادم، ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے ضلع میرپورخاص میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سیاسی جماعتوں میں تصادم میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ آصف علی زدراری کے بہنوئی میر منور تالپور، ایم این اے نواب یوسف تالپور سمیت پی پی پی کی ایک گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے۔ میرپورخاص اولڈ کی یونین کونسل میں پیر کی شام کو پی پی پی کے عوام دوست اور پیرپگارا کے فقیر دوست گروپ کے لوگوں میں تصادم ہوگیا جس میں فقیر دوست ناظم کے امیدوار بابو شاہ کا ڈرائیور سومار مہر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔ بعد میں رات کو دیر سے دم توڑ گیا۔ واقعہ میں عوام دوست گروپ کے غلام حیدرناریجو بھی زخمی ہوگئے جن کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور عوام دوست گروپ کے ناظم کے امیدوار حاجن پنہور اور سابق ناظم یامین ناریجو کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ فنکشنل لیگ کے رہنما سرفراز جونیجو کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان کے الیکشن آفیس کے سامنے دفتر قائم کیا تھا اور پیر کے روز زوردار آواز میں سیاسی نغموں کی کیسٹ بجا رہے تھے۔ جیسے ہی فقیر دوست گروپ کے ناظم کے امیدوار بابو شاہ گھر سے باہر نکلے تو ملزمان نے ان پر حملے کی کوشش کی جس میں سومار مہر سامنے آگیا اس کے منہ میں گولی لگی اور وہ ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے ایک ملزم غلام حیدر ناریجو کو گرفتار کرلیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا گیا ہے۔ پی پی پی کے رہنما پیر آفتاب حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے کارکن غلام حیدر نے اپنے کریانہ کی دکان میں الیکشن آفیس قائم کیا تھا۔اور پیر کے روز پی پی پی کے نغموں کی کیسٹ بجا رہا تھا کہ سومار مہر نے اپنے دیگر ساتھیوں کیساتھ آکر کیسٹ بند کرنے کو کہا۔ سومار کے پاس اس کا لائسنس والا پسٹل تھا جس سے اس نے ہمارے کارکن کے سر پر بٹ مارا اسے بچانے کے لیے غلام حیدر ناریجو آیا تو اس کے سر پر ضرب لگائی گئی۔ اسی دوران سومار مہر کی ہاتھ میں موجود پسٹل چل گیا اور وہ خود ہی اپنی گولی کا نشانہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین نے ان کےدفتر پر حملہ کیا تھا۔ ایم این اے نواب یوسف تالپور نے بی بی سی کہ ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سارے رہنما ایک گاڑی میں سوار تھے جبکہ دیگر دوست اور احباب بھی ساتھ تھے۔ نواب یوسف نے الزام عائد کیا کہ ملزمان میں سے دو کی انہوں نے شناخت کرلی ہے جن کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسر اور ڈی پی او سے رابطہ کرنےکی کوشش کی مگر وہ فون پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جبکہ سامارو پولیس مقدمہ درج نہیں کر رہی۔ نواب یوسف نے کہا کہ منتخب نمائندوں پر حملے ہو رہے ہیں پولیس مقدمہ درج نہیں کرتی عام لوگوں سے کیا برتاؤ کیا جاتا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے چیف الیکش کمشنر اور صوبائی الیکشن کمشنر کو لیٹر لکھے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||