حساس اضلاع میں فوج آئے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلدیاتی انتخابات کے موقع پر پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع کو حفاظتی اعتبار سے حساس قرار دے کر وہاں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب کے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری وسیم مختار کے مطابق لاہور میں جمعہ کے روز ایک اعلی سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور سرگودھا حساس اضلاع ہیں اور وہاں دس اگست کو فوج بلا لی جائےگی۔ فوج ان علاقوں میں فلیگ مارچ کرے گی تاہم ان اضلاع میں شیعہ سنی کشیدگی کا روایتی گڑھ جھنگ شامل نہیں۔ اس صوبائی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پنجاب کے سیکرٹری داخلہ جب مناسب سمجھیں گے پولنگ کے موقع پر فوج کو کسی پولنگ مرکز پر تعیناتی کے لیے بلالیں گے بصورت دیگر فوج چوکس رہے گی جبکہ پولیس پولنگ مراکز پر تعینات ہوگی۔ کراچی میں بھی ہفتے کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں انتخابات میں امن امان کی ممکنہ صورتحال اور صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر غور کیا گیا۔ سندھ کے سیکرٹری داخلہ نے اجلاس میں بتایا کہ الیکشن میں ڈیوٹی کے لیے حکومت کے پاس پچانوے ہزار فورس تیار ہے جس میں پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی اور حیدرآباد میں بھی بلدیاتی اتخابات کے روز فوج گشت کرےگی اور حساس علاقوں کی فضائی نگرانی بھی کی جائےگی جس کے لیے پولیس اور فوج کے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دس اگست سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان گشت شروع کر دیں گے۔ سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ اگر دیگر اضلاع کو بھی ضرورت ہوگی تو فوج طلب کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں حکومت مخالف جماعتیں انتخابات فوج کی نگرانی میں کروانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں جس کی حکومت اور ایم کیو ایم شدید مخالف ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی فوج صرف مخصوص علاقوں میں گشت کرےگی مگر یہ علاقے کون سے ہونگے اس کی وضاحت نہیں کی گی۔ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر کو اندرونِ سندھ کے اضلاع سکھر، شکارپور اور شہداد کوٹ کے ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسران نے بتایا کہ ان علاقوں میں الیکشن کے موقع پر مختلف قبائل میں تصادم کا خدشہ ہے اس لیے وہاں امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں رکھنے کے لیے موثر اقدمات کیے جائیں۔ سکھر کے ڈسٹرکٹ رٹرننگ آفیسر کا کہنا تھا کہ ان کو پولیس کی اضافی نفری دی جائے یا فوج طلب کی جائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے صوبائی پولیس کے سربراہ اور سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ ان اضلاع کا جائزہ لیا جائے کہ وہاں کیا انتظامات ہونے چاہییں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے یہ بھی کہا کہ یہ انتخابات غیر جماعتی اور غیر سیاسی ہیں اس لیے شہر میں سیاسی جماعتوں کے لگے ہوئے جھنڈے اور بینر ہٹا دیے جائیں گے۔انہوں جماعتوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ جھنڈے اور بینر ہٹا دیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||