سندھ حزب اختلاف کی کوشش ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں اور انتقامی کارروائیوں کی شکایات کے باوجود حکومت مخالف جماعتیں کوئی مشترکہ لائحۂ عمل طے نہیں کرسکیں۔ سنی تحریک اور جماعت اسلامی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ہفتے کے روز آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مذہبی جماعتوں کے علاوہ قوم پرست رہنماؤں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تمام رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا اور خودمحتار الیکشن کمیشن کے قیام، عدلیہ کی نگرانی میں انتخابات کروانے اور فوج کی سیاست میں مداخلت روکنے کی مطالبات کیے۔ اپنے مقرر وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ دیر سے شروع ہونے والی اس کانفرنس میں پی پی پی کے علاوہ ایم ایم اے، جماعت اسلامی، مسلم لیگ( ن)، اے این پی، جے یو آئی، نیشنل پارٹی، پی ڈی پی، عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھ نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ سید قائم علی شاہ، نثار کھوڑو، پروفیسر غفور احمد، مولانا اسدللہ بھٹو، ممنون حسین، رسول بخش پلیجو، نفیس صدیقی، علامہ حسن ترابی، یوسف مستی خان، ڈاکٹر قادر مگسی، امیر بخش بھنبھرو، بشارت مرزا، نہال ہاشمی، قاری شیر افضل اور دیگر رہنماؤں نے تقاریر کیں۔ کانفرنس میں پی پی پی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی دھاندلیاں پہلے کبھی نہیں ہوئی جیسی ان انتخابات میں کی جارہیں ہیں۔ مارشل لاء دور حکومت میں بھی ایسی دھاندلیاں نہیں کی جاتیں تھیں۔
قائم علی شاہ کے مطابق نامزدگی فارم کے اجراء سے ہی مخالف امیدواروں کے اغوا، تشدد اور ان کو ہراساں کرنے کا عمل شروع ہوگیا تھا۔ مسلم لیگ (ن )کے رہنما اور سابق گورنر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز اور سندھ کے وزیر اعلیٰ خود ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور لوگوں کو حکمران جماعت کو ووٹ دینے کو کہہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہمارے امیدوار پانی کی چوری کے مقدمات میں گرفتار کیے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد کا کہنا تھا کہ نگران چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات کروانا غیر آئینی ہے۔ جب چیف الیکشن کمشنر کی ملازمت کو تحفظ ہوگا تبھی وہ غیرجانبدار اور شفاف انتخابات کرواسکتا ہے۔ ابھی تو صدر جب چاہے نگران الیکشن کمشنر کو ہٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں تشدد اور ڈر کا دور شروع ہوچکا ہے۔ پورا صوبہ حساس ہے۔ شاھراہیں اور راستے گواہ ہیں کے پوری سرکاری مشنری انتخاباتی عمل میں سرگرم ہے اور انتخابی حلقے حزب اختلاف کے امیدواروں کے لیے نو گو ایریاز بن گئے ہیں۔ قومپرست رہنما رسول بخش پلیجو کا کہنا تھا کہ سندھ کا خود ساختہ وزیر اعلیٰ جج صاحبان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ عدالتوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ شہروں کو مخصوص گروپ کے حوالے کیا جارہا ہے۔ الیکشن سے قبل ملزمان کو آزاد کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر قادرمگسی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی نگرانی کے بجائے عدلیہ کی نگرانی میں انتخابات کروانے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور انتخابات آئین میں دیے گئے نکات کے تحت کر وائے جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||