بلدیاتی دھاندلیاں: عدالتی کمیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور اس بات کی ضمانت دی جائِے کہ اس کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے شخص کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائیگا۔ سندہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو، ایم این اے شیری رحمان اور تاج حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ الیکشن کمیشن نے باون فیصد شکایات کا ازالہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن ایک جانبدار ادرے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے اتحادی اور حمایتی ضابطے اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ جس کا اعلیٰ عدالتوں کو نوٹس لینا چاہیے۔ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ علی محمد مھر کے ضلع گھوٹکی کی ایک یونین کونسل کے ناظم کے امیدوار غلام نبی گڈانی کا کہنا تھا کہ اسے ایک پولیس افسر نے عدالت سے اغوا کرلیا۔ اس نے اسے ایک سفید کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا۔ انکار پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں آزاد کیا گیا۔ عمرکوٹ کی یونین کونسل ڈہورو نارو کے ناظم کے امیدوار محمد حسن ملاح، چھور کے امیدوار محمد حنیف منگریو اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے ضلع تھر کی یونین کونسل کینسر کے عوام دوست امیدوارجلاالدین نے بھی ان کے اغوا اور تشدد کے الزامات عائد کیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||