انتخابات میں دھاندلی کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ضمنی انتخابات میں حکومت پر اپنے من پسند امیدوار کی کامیابی کے لیے دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔ پی پی پی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر راجہ اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ ووٹنگ سے صرف ایک روز پہلے پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے تین کارکن قتل ہو گئے جس سے علاقے میں خوف کی فضا چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سخت دہشت زدہ تھے اور ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔ انہوں نے مزید الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ آخری وقت تک پریزائڈنگ افسروں کی فہرستیں تبدیل ہوتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے امیدوار کے حامیوں کو دھمکایا گیا کہ وہ کیمپ نہ لگائیں اور کسی طرح کی حمایت کا اظہار نہ کریں۔ پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر میں بھی حکومتی مشینری کی سخت مداخلت رہی۔ انہوں نے الیکشن کمِشن پر الزام لگایا کہ وہ حکومت مخالف امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کے حلقے میں ڈپلو کے علاقے میں پی پی پی کی پولنگ ایجنٹ سسی پلیجو کو گیارہ بجے سے پانچ بجے تک گرفتار رکھا گیا اور کام نہیں کرنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ سے ستر پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں لوگوں کو باہر نکال دیا گیا۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ پی پی پی اپنی شکایت تحریری طور پر متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||