BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 July, 2004, 22:12 GMT 03:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور کے نتائج پر دھاندلی کا الزام

لاہور کی نشست پر حزب اختلاف نے دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں
لاہور کی نشست پر حزب اختلاف نے دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں
لاہور کی ایک اور بہاولپور کے تین صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے ضمنی انتخابات غیرسرکاری نتائج کےمطابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے امیدواروں نے جیت لیے ہیں۔

تاہم حزب مخالف پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے لاہور کے صوبائی حلقہ کے نتائج کو ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں تبدیل کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔

لاہور میں صوبائی حلقہ ایک سو چھپن سے سرکاری جماعت کے امیدوار شعیب صدیقی غیر سرکاری نتائج کے مطابق تقریبا نو ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار عباد قریشی تقریبا ساڑھے پانچ ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نصیر بھٹہ تقریبا ساڑھے چار ہزار ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر آئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں نتائج تبدیل کردیے گۓ۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان الطاف قریشی نے کہا کہ پارٹی نے پولنگ اسٹیشنوں سے جو نتائج جمع کیے تھے ان کےمطابق اس کا امیدوار کامیاب ہوا ہے۔

پیپلز پارٹی کے جمع کئے ہوۓ نتائج کےمطابق اس کے امیدوار کو چھ ہزار سات ووٹ ، سرکاری جماعت کے امیدوار کو پانچ ہزار تین سو تراسی ووٹ اور مسلم لیگ نواز کو چار ہزار ووٹ ملے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیا نے ہفتے کی شام کو ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انھیں وہاں داخل ہونے سے روک دیا۔

مسلم لیگ(نواز) کے امیدوار اور صوبائی رہنما بھی اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کے باہر دھرنا مار کر بیٹھے رہے۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما سعد رفیق نے کہا کہ انتظامیہ نے ستائیس پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج تبدیل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس کے سربراہ شفقات احمد نے ریٹرننگ آفیسر سے گن پوائنٹ پر یہ نتائج حاصل کیے ہیں۔

پولیس کے سربراہ، سرکاری جماعت کے امیدوار اور ریٹرننگ آفیسر ایک گھنٹے سے زیادہ اس جگہ پر موجود رہے جہاں پولنگ اسٹیشنوں سے آئے ہوۓ نتائج کو جمع کیا جارہا تھا۔

لاہور میں صوبائی حلقہ کے انتخابات خاصی کشیدہ فضا میں ہوئے اور اسلحہ کی نمائش کی گئی۔

بہاولپور کے تین صوبائی حلقوں سے بھی غیر سرکاری نتائج کے مطابق سرکاری جماعت پاکستان مسلم لیگ کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

بہاولپور کے حلقہ دو سو پچہتر سے پاکستان مسلم لیگ شعیب کریم نے تقریبا اٹھائیس ہزار ووٹ لیے جبکہ ان کے مقابلہ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اعجاز رسول نے دو ہزار پانچ سو اسی ووٹ لیے۔

بہاولپور کے حلقہ دو سو انہتر سے پاکستان مسلم لیگ کے خالد محمود نے تقریبا ساڑھے تینتیس ہزار ووٹ لیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ریاض ڈار نے پندرہ سو پندرہ ووٹ لیے۔

بہاولپور کے حلقہ دو سو چھہتر سے پاکستان مسلم لیگ کے ڈاکٹر افضل کامیاب ہوۓ جنھوں نے بتیس ہزار سے زیادہ ووٹ لیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوا رمحمد افتخار نے تقریبا دو ہزار ووٹ لیے۔

بہاولپور کی نشستیں پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کےمنحرف ہونے اور مستعفی ہونے سے خالی ہوئی تھیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد