BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 August, 2005, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلا مقابلہ امیدوار اورغیر ووٹرخواتین
بلدیاتی انتخابات کی تیاری
پاکستان میں ضلعی حکومتوں کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ملک کے 54 اضلاع میں جمعرات کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخابات میں مجموعی طور پر ایک لاکھ چودہ ہزار چار سو چھیانوے امیدوار میدان میں ہیں۔

پہلے مرحلے میں تین ہزار چوہتر یونین کونسلوں کے ووٹرز اپنے نمائندے چنیں گے۔

صوبہ سرحد
صوبہ سرحد کے بارہ اضلاع میں کل منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی مہم تو مجموعی طور پر پرامن طریقے سے اپنے اختتام کو پہنچی لیکن کئی علاقوں میں مقامی سطح پر پابندی کے فیصلوں نے خواتین نمائندگی اور حق رائے دہی کے قزیے کو ایک مرتبہ پھر سامنے لاکھڑا کیا۔

خواتین ووٹ کیوں نہ ڈالیں؟
 اتنے گرم موسم میں ان کی عورتوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ مناسب پردے کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے لئے گھنٹوں قطار میں کھڑی رہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم کا معیار بھی ابھی ایسا نہیں کہ عورتیں خود فیصلہ کر سکیں
ایک شہری میجر ریٹائرڈ محمد اقبال

بلدیاتی انتخابات کی مہم کا صوبہ سرحد میں آغاز قدامت پسند علاقوں میں عورتوں پر اس میں حصہ لینے پر پابندی کی خبروں سے اور اختتام کئی علاقوں میں خواتین پر ووٹ ڈالنے کی پابندی سے ہوا۔

اس کے علاوہ صوبہ میں تقریباً ایک ماہ کا انتخابی مہم کا عرصہ سرکاری مداخلت کے الزامات کے تبادلے میں بھی گزرا۔

تاہم خواتین کی ان انتخابات میں شرکت کا قزیہ سب سے زیادہ متنازعہ ثابت ہوا۔

بات دیر اور بٹگرام کے دورافتادہ پہاڑی علاقوں میں خواتین پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی سے شروع ہوئی اور اب صوبائی دارالحکومت پشاور کے مضافات میں شیخان یونین کونسل سمیت کئی علاقوں میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے پر اختتام پذیر ہوئی۔

دور دیہی علاقوں کی بات تو سمجھ آتی ہے لیکن خود پشاور کے مضافات میں یہ فیصلہ حیران کن قرار دیا جا رہا ہے۔

یونین کونسل شیخان سے نائب ناظم کے ایک امیدوار شوکت علی نے بتایا ایک مقامی جرگے نے یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ مقامی مرد عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے فیصلے کو اپنی بےعزتی قرار دیتے ہیں۔

’میرے لئے آپ کی بیوی یا بہن کا ووٹ مانگنا بھی شرم کی بات ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ عورتوں کو اس جھنجھٹ سے ہی دور رکھا جائے۔‘

شوکت نے بتایا کہ یہ فیصلہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی اس علاقے کی کسی عورت نے ووٹ نہیں ڈالا۔

علاقے کے ایک اور سینر شخص ریٹائرڈ میجر محمد اقبال کا کہنا تھا کہ اتنے گرم موسم میں ان کی عورتوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ مناسب پردے کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے لئے گھنٹوں قطار میں کھڑی رہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم کا معیار بھی ابھی ایسا نہیں کہ عورتیں خود فیصلہ کر سکیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ اگر امریکہ میں اب تک کوئی خاتون صدر نہیں آئی تو ان کے ہاں کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ عورتیں ووٹ بھی ڈالیں۔ ’اس کے لئے آپ کو ہمیں چالیس پچاس مزید برس دینے ہونگے۔‘

تاہم حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں اس فیصلے پر سراپا احتجاج ہیں۔ کئی مقامات پر ان فیصلوں کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تقرار بھی ہوئی۔

یہ فیصلے کیسے روکے جاسکتے ہیں اور اس بارے میں غیرسرکاری تنظیمیں کیا کر رہی ہیں؟ عورت فاونڈیشن کی علاقائی سربراہ رخشندہ ناز نے بتایا کہ وہ صوبائی الیکشن کمیشن اور خواتین کی وزارت سے اس سلسلے میں مسلسل رابطے میں رہنے کے علاوہ خود بھی ان علاقوں کے عمائدین سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

ان سے پوچھا کہ یہ فیصلے کیسے واپس کئے جاسکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس بابت حکومت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ’اسے چاہیے کہ وہ ایسے علاقوں میں پولنگ روک دے۔ پھر آپ دیکھیں کہ یہ لوگ کیسے اپنی خواتین کو اپنی گاڑیوں میں بھر بھر کر لاتے ہیں۔‘

حکومت اس بابت اب تک صرف اخباری بیانات تک کی محدود نظر آتی ہے۔ کئی علاقوں میں حکومتی اہلکاروں نے خود جا کر خواتین سے کاغذات نامزدگی تو داخل کروائے لیکن جمعرات کے روز پولنگ کے لئے انہیں پولنگ سٹیشن تک شاید لانا اتنا آسان نہ ہو۔

بیلٹ بکس
صوبہ سندھ
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق سندھ کے گیارہ اضلاع میں سولہ سو چوراسی ناظمین اور نائب ناظمین سمیت بیس ہزار سات سو نوّے امیدوار میدان میں ہیں۔

سندھ میں انتخابات سے چند ہفتے قبل اضلاع کی تعداد 16 سے بڑھا کر تئیس کردیا گیا۔

اس کے علاوہ کراچی، گھوٹکی، تھرپارکر اور ٹھٹہ کو چھوڑ کر گیارہ اضلاع کی حدود میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ صوبے میں 86 تعلقوں (تحصیلوں) کا اضافہ کیا گیا ہے۔

نئے اضلاع کی تشکیل، اور حدود میں ردوبدل کے بارے میں پی پی پی سمیت صوبے میں حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیوں کو تحفظات ہیں۔

بلا مقابلہ امیدوار
 الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق سندھ میں مجموعی طور پر گیارہ اضلاع کی 589 یونین کونسلوں میں ایک ہزار اٹھاسی امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ جن میں ایک سو گیارہ ناظمین بھی شامل ہیں
سندھ میں حکمران اتحاد کی جماعتوں نے آپس میں اتحاد کر لیا ہے جبکہ حزب مخالف کی جماعتوں چند مقامات کو چھوڑ کر الگ الگ انتخابات لڑ رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی نے عوام دوست پینل کے تحت امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) وطن نواز پینل، متحدہ قومی موومنٹ حق پرست، جماعت اسلامی الخدمت پینل، پیر پاگاڑا کی فنکشنل مسلم لیگ فقیر دوست پینل، سندھ کا حکمران اتحاد خوشحال پاکستان پینل کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہیں ہیں۔

سندھ میں ووٹروں کی تعداد میں مجموعی طور پر تین لاکھ تریسٹھ ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔

سندھ کے مختلف اضلاع میں حکومت نے اپنی حلیف جماعتوں کے علاوہ مقامی سطح پر مختلف برادریوں اور گروپوں سے اتحاد بنا لیا ہے۔ اور اس کی بھرپور کوشش ہے کہ پی پی پی مخالف لوگوں اور ووٹروں کو اکٹھا کر لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ صوبے کے تمام اضلاع کا تفصیلی دورہ کرکے پی پی مخالف پینل تشکیل دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

نوابشاہ ضلع میں حکومت کے حلیف عوام اتحاد، خیرپور میں خیرپور دوست، بدین میں بدین اتحاد، دادو میں دادو اتحاد، شکارپور میں راجونی اتحاد کے نام سے انتخابات لڑ رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق سندھ میں مجموعی طور پر گیارہ اضلاع کی 589 یونین کونسلوں میں ایک ہزار اٹھاسی امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ جن میں ایک سو گیارہ ناظمین بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد وزیر اعلیٰ سندھ کے آبائی ضلع تھرپارکر میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جبکہ چوالیس یونین کونسلوں میں سے اب تک پینتیس میں حکومت کے حامی بلامقابلہ کامیاب ہوگئے ہیں۔

دوسرے نمبر پر سابق وزیراعلیٰ علی محمد مہر کا ضلع گھوٹکی ہے جہاں آٹھ ناظم اور نائب ناظم بلامقابلہ کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

صوبے میں مجموعی طور پر پہلے مرحلے میں 76 نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔ جن پر ضمنی انتخابات ہونگے۔

کراچی میں مذہبی اتحاد ایم ایم اے اور اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت اور اسے اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وفاقی و صوبائی وزرا پر سرکاری وسائل اور مشینری استعمال کرنے، پولیس، روینیو، آبپاشی کے محکموں کے ذریعے مخالفین کو ہراساں کرنے، گرفتاریاں، جھوٹے مقدمات قائم کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔

میرپورخاص، حیدرآباد، دادو میں سابق ضلع ناظمین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ میرپورخاص، خیرپور، کشمور، ٹھٹہ میں پی پی کے اراکین اسمبلی، بعض بلدیاتی امیدواروں اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔

کراچی میں سنہ 2001 میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 44 لاکھ 55 ہزار چھ سو ایک تھی۔ اب یہ تعداد بڑھ کر 47 لاکھ 89 ہزار چھ سو پچانوے ہوگئی ہے۔ سندھ میں مجموعی طور پر گزشتہ ٹرم کے مقابلے میں تین لاکھ تریسٹھ ہزار تین سو چھہتر ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے جس میں سے کراچی میں تین لاکھ 34 ہزار 94 ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔ صوبے کے دیگر تمام اضلاع میں مجموعی طور پرصرف 29 ہزار دو سو بیاسی ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد