مدارس کی اسناد کافی نہیں: عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان پر مشتمل سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک بینچ نے دینی مدرسوں کی سندوں کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی رٹ درخواستیں مسترد کر دی ہیں اور ان کے تسلیم کیے جانے کا معیار واضح کیا ہے۔ لاہور میں سپریم کورٹ کے جج نے اپنے فیصلہ سے پہلے عدالت میں یہ آبزرویشن دی کہ کہ صرف انہی دینی مدرسوں کی سندیں قابل قبول ہوں گی جو اعلٰی تعلیم کے کمیشن سے منظور شدہ ہوں اور یہ سندیں میٹرک کے مساوی اس وقت سمجھی جائیں گی جب طالبعلم نے کسی بورڈ سے انگلش، اردو اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین پاس کیے ہوں۔ خوشاب سے یونین کونسل کے امیدوار اسد سعید، لاہور سے مولوی محمد ادریس اور دوسرے امیدواروں نے یہ رٹ درخواستیں دائر کی تھیں۔ سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ ابھی جاری نہیں ہوا ہے۔ یوں ایک ہی نوعیت کے معاملہ پر اسی ماہ سپریم کورٹ کے دو مختلف فیصلے سامنے آچکے ہیں گو ان میں سے ایک فیصلہ عبوری ہے جو چار اگست کو سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے دیا تھا کہ مدارس کی سندیں رکھنے والے افراد کو مشروط طور پر مقامی انتخابات لڑنے کی اجازت ہے۔ تاہم اس کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ اس سے پہلے دو متضاد فیصلوں میں مدارس کی سندیں رکھنے والے افراد کو لاہور ہائیکورٹ نے انتخابات لڑنے کے لیے نااہل اور پشاور ہائیکورٹ نے اہل قرار دے دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ عدالت عظمی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی تصدیق کردی ہے اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو مسترد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے بینچ میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری، جسٹس سید سعید اشہد اور جسٹس سردار رضا محمد خاں شامل تھے۔ اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے عدالت عظمی سے کہا کہ دینی مدرسو ں کی سندیں درس و تدریس کے مقصد کےلیے میٹرک یا بی اے کے برابر ہیں جبکہ الیکشن لڑنے کے لیے منظور شدہ دینی مدارس سے شہادت الثنویہ کی سند رکھنے والوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ انگلش، اردو اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پاس کریں تب وہ میٹرک کے مساوی تصور کیے جائیں گے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ جب کوئی شخص میٹرک پاس ہی نہیں تو شہادت العالمیہ کی سند کو بی اے یا ایم اے کے مساوی کیسے مانا جاسکتا ہے؟ مخدوم علی خان نے عدالت عظمی میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پانچ دینی وفاق ایسے ہیں جن کو اعلٰی تعلیمی کمیشن نے سندیں دینےکا اختیار دیا ہے اور انہیں تین لازمی مضامین پاس کرنے کے بعد میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے۔
ان میں وفاق مدارس العربیہ ملتان (دیو بندی)، وفاق مدارس السلفیہ (اہل حدیث) فیصل آباد، تنظیم المدارس (اہل سنت)، رابطہ مدارس الاسلامیہ اور وفاق المدارس (شیعہ) شامل ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بھی عدالت عظمی کو بتایا تھا کہ پانچ نجی دینی مدرسوں کو بھی اعلی تعلیم کمیشن نے تسلیم کیا ہے۔ ان میں جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ اسلامیہ منہاج القران لاہور، جامعہ تعلیمات اسلامی فیصل آباد، دارالعلوم محمدیہ غوثیہ سرگودھا، دارالعلوم کراچی شامل ہیں۔ چار اگست کو کو لاہور میں سپریم کورٹ کے جس تین رکنی بینچ نے فیصلہ فیصل آباد کے ایک امیدوار کی رٹ درخواست پر عبوری فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دی تھی اس میں جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس فلک شیر اور جسٹس سردار رضا خان شامل تھے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو عبوری طور پر الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ان کا معاملہ آج کے فیصلہ سے مختلف ہے اور ان کا مستقبل حتمی فیصلہ آنے کے بعد متعین ہوگا۔ اس سے پہلے تین اگست کو لاہور ہائی کورٹ کے دو ججوں نے اپنے الگ الگ فیصلوں میں قرار دیا تھا کہ دینی مدرسوں کی سندوں میٹرک اور بی یا ایم اے کے برابر نہیں اور یہ سندیں رکھنے والے انتخابات لڑنے کے اہل نہیں۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے آٹھ اگست کو اپنے ایک فیصلہ میں دینی مدارس کی اسناد پر دیر بالا میں ناظم اور نائب ناظم کے عہدوں پر الیکشن کے لیے ناہل قرار دیے جانے والے امیدواروں کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی تھی اور کہا تھا کہ یہ اسناد میٹرک اور بی اے کے برابر ہیں۔ پارلیمینٹ میں متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے ستر سے زیادہ ارکان دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ آج کا فیصلہ ان کے مستقبل کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||