مدارس رجسٹریشن پر راضی: وزیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تمام مدارس حکومت پاکستان کے ساتھ رجسٹریشن کروانے پر آمادہ ہو گئے ہیں اور اس سلسلے میں صدر جنرل پرویز مشرف آج یا کل ایک آرڈی نینس جاری کریں گے جس کے تحت ان مدارس میں عسکریت اور فرقہ واریت پھیلانے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مدارس دینی تعلیم کے علاوہ ملک کے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی عصری تعلیم بھی دیں گے۔ وزیر کا کہنا تھا ’اب ان مدارس میں وہی تعلیم متعارف کروائی جائے گی جو بیکن ہاؤس یا کسی بھی نجی و سرکاری سکول میں دی جاتی ہے‘۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں پہلی سے دسویں جماعت تک مدارس میں جدید تعلیم دی جائے گی۔ دینی مدارس کی مرکزی تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے سیکریٹری کو آرڈینیشن حنیف جالندھری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم دی جائے گی۔ رجسٹریشن کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ تمام مدارس رجسٹریشن کرانے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویزمشرف نےگزشتہ ماہ سرکاری ٹیلیوژن پر اپنے خطاب میں دینی مدارس کو اس سال دسمبر تک رجسٹریشن کرانے کی مہلت دی تھی۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق کا کہنا ہے کہ وہ اس سال نومبر کے انھوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہے کہ وہ ان مدارس کو مرکزی دھارے میں پاکستان کے تین صوبوں سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں کل مدارس کی رجسٹریشن کے بارے میں صوبائی آرڈی نینس جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت ان مدارس کو رجسٹریشن کے علاوہ اپنا سالانہ آڈٹ بھی کروانا ہو گا۔ اعجاز الحق کے مطابق صوبہ سرحد کی حکومت بھی مدارس کی رجسٹریشن کے بارے میں آرڈی نینس جاری کرنے پر متفق ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجحلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمن اورصوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم درانی نےاس بارے میں اہم کرداد ادا کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||