BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 August, 2005, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدارس، مساجد کا اندراج شروع

مدرسہ
’اتحاد تنظیمات مدارس کے پاس تمام مدارس کے کوائف پہلے سے موجود ہیں‘
پاکستان کی حکومت نے اس سال دسمبر تک ملک میں مدارس اور مساجد کے اندراج کی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس افسران کو ایک فارم دیا گیا ہے جس میں مدارس کے منتظمین اور طلبا کے کوائف کے بارے میں تمام تفصیلات اکٹھی کی جائیں گی۔

اس فارم کے مطابق کہا گیا ہے کہ تمام ایس ایچ او ضروری تفصیلات اکٹھی کر کے یہ فارم منگل تک ایس ایس پی سکندر حیات کو واپس کر دیں جس کے بعد یہ فارم وزارت داخلہ کو بھیجا جائے گا۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ ماہ دسمبر تک مدارس کے اندراج کا وقت دیا تھا اور ساتھ ہی ان مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلبا کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مدارس کے کوائف اکٹھے کرنے کا کام اسلام آباد کی انتظامیہ نے شروع کیا ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں مدارس کی رجسٹریشن کا کام شروع کرنے سے پہلے مدارس کے بارے میں قانون میں ترمیم کی جائے گی جس کے بعد ملک میں رجسٹریشن کا کام شروع کیا جائے گا۔

اس فارم میں مدارس اور مساجد کی زمین کی تفصیل ، زمین پر قبضے، حکومت کی طرف سے جاری نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ، فرقے، منتظمیں اور اساتذہ کے نام اور پتے، طلبا کی قومیت، مدارس کے اندراج اور قیام کی تاریخ کے بارے میں سوالات پوچھے گئے ہیں۔

تاہم مدارس کی سب سے بڑی تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے سیکریٹری حنیف جالندھری نے کہا ہے کہ حکومت کو مدارس کے بارے میں اگر معلومات چاہیں تو وہ اتحاد تنظیمات مدارس سے رجوع کرے جن کے پاس تمام مدارس کے کوائف پہلے سے ہی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ اسلام آباد میں کس اختیار کے تحت مدارس کے کوائف اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مدارس کے بارے میں تمام کوائف پہلے ہی وزارت داخلہ، وزارت مذہبی امور اور وزارت تعلیم کے پاس موجود ہیں لہذا وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان مدارس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے یہ نیا طریقہ کیوں اختیار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد