مدرسہ گرفتاریاں: انتالیس رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں گزشتہ ہفتے کے کریک ڈاون کے دوران گرفتار اکہتر افراد میں سے انتالیس کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے میں گزشتہ ہفتے کے کریک ڈاون کے دوران گرفتار اکہتر افراد میں سے انتالیس کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کو صدر پرویز مشرف کے حکم پر ملک بھر میں مذہبی منافرت اور فرقہ ورایت پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ صوبائی دارلحکومت میں ایک اعلی پولیس اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ رہا کئے جانے والے افراد کے خلاف ان کے پاس ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مطلوب افراد کے روپوش ہو جانے کی وجہ سے گزشتہ چند روز میں کوئی تازہ گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی گرفتار افراد سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس معاملے پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے اعلی پولیس اہلکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی کام کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی ان افراد سے پوچھ گچھ بھی کر رہی ہے تاکہ کوئی بے گناہ زیر حراست نہ رہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی آئندہ چند روز بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ تاہم انہوں نے اس مطلوب افراد کی تعداد نہیں بتائی۔ لندن میں بم حلموں کے بعد پاکستان بھر میں پولیس نے کئی روز کی کوششوں کے بعد سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ برطانوی حکومت کا دباؤ بھی بتایا جاتا ہے۔ تاہم حکام نے واضع کیا تھا کہ ان گرفتاریوں کا لندن حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان میں اس طرح کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہیں لیکن چند روز کے بعد ان افراد کو رہا کر دیا جاتا تھا۔ اکثر لوگوں کے ذہنوں پر یہی سوال ہے کہ کیا اس مرتبہ کی کارروائی ماضی سے مختلف ہوگی یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||