انتخابی دھاندلی: اقلیتیوں کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل پاکستان اقلیتی اتحاد کے سربراہ شہباز بھٹی نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں اقلیتی امیدواروں کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا ہے جن میں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ حکمران جماعت اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لیے غیر جمہوری حربے استعمال کر رہی ہے اور مخالف امیدواروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ وہ سنیچر کو لاہورمیں چند اقلیتی اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق تو ہر ووٹر نے خواہ وہ مسلم ہویا غیر مسلم چھ ووٹ دینے ہیں اور اقلیتی ووٹر میں کوئی امتیاز نہیں ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد اس بارے میں ابہام کا شکار ہے جس کا نقصان اقلیتی امیداوروں کی انتخابی مہم پر منفی انداز میں پڑ رہا ہے۔ شہباز بھٹی نے کہا کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور حکومتی مشینری کی مبینہ مداخلت کے بارے میں وہ سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لے کر مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمشن ان بے ضابطگیوں کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جس کے تحت دینی مدارس کی بعض ڈگریاں رکھنے والے افراد کو الیکشن میں حصہ لینے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمان مدرسوں کی طرح عیسائیوں کی درسگاہوں کی اسناد کو بھی انتخابات کے لیے تسلیم کیا جائے۔ شہباز بھٹی نے اس موقع پر عوام دوست امیدواروں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ انہیں ووٹ دیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین نے اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو عوام دوست کا نام دے رکھا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کی مختلف تنظیموں کے اتحاد کے سربراہ شہباز بھٹی نے انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے ملک بھر میں کمیٹیاں قائم کر دی ہیں جو انسانی حقوق کی تنظیموں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ملکر انتخابی عمل پر نظر رکھیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||