مدرسہ طلبہ کو دسمبر تک مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے مدرسوں میں زیر تعلیم تمام غیرملکی طلبہ کو دسمبر تک واپسی کی مہلت دے دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ انہیں ہر صورت میں واپس بھیجا جائیگا۔ مدرسوں میں امریکہ اور یورپ سمیت دیگر ممالک کے طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کراچی میںسنیچر کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ طلبہ کسی قسم کی بھی کارروائی میں ملوث پائےگئے تو الزام پاکستان پر آئیگا۔ اس لئے ان چودہ سو طلبہ کو دسمبر تک یہاں سے واپس بھیج دیا جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ کسی معاہدہ کے تحت پاکستان میں زیر تعلیم نہیں۔ یہ انفرادی حیثیت میں یہاں آئے ہیں۔ان کے ویزے منسوخ کرکے واپس ان کے ملک بھیج دیا جائیگا۔ شیر پاؤ نے بتایا کہ مدرسوں میں ملکی طلبہ کےتعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ مگر ہم ان مدرسوں کی رجسٹریشن اور ریگیولرائزیشن کرنا چاہتے ہیں جبکہ نصاب میں بھی تبدیلی لائیں گے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انتہاپسند اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری رہیگی۔ یہ کارروائی مذہب اور مذہب پرست تنظیموں کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ مدراس کی تنظیم مرکز تحفظ المدارس دینیہ نے کچھ روز قبل ایک پریس کانفرنس میں دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے مدارس کی طرف ہاتھ بڑھائے تو وہ ہاتھ سلامت نہیں رہینگے۔ مولانا اسد تھانوی، قاری منصور، مولانا سیف اللہ ربانی اور قاری اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ چترال سے کراچی تک نو ہزار سے زائد مدرسوں میں بیس لاکھ سے زائد طالب زیر تعلیم ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||