طلباء کی واپسی کی ڈیڈلائن نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مدرسوں میں زیر تعلیم چودہ سو غیر ملکی طالب علموں میں سے ساڑھ چھ سو سندھ میں ہیں جن میں سے چھ سو کراچی میں باقی شھدادپور کے مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سندھ کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری غلام محمد محترم نے ہفتے کی شام صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی طلبہ کو پاکستان سے باہر بھیجنے کے لیے نظام الاوقات مقرر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کے پہلے یہ دیکھا جائیگا کہ آیا ان طلباء کی دستاویز مکمل ہیں یا نہیں اور جن ممالک سے یہ طلبہ آئے ہیں ان سے رابطہ کیا جائیگا کے وہ ان کے شھری ہیں۔ پھر ان کو اسی ملک کے سپرد کیا جائیگا۔ اس عمل میں وقت درکار ہوتا ہے اسلیے کوئی بھی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ مدرسوں کے انتظامیہ مطالبہ کر رہیں تھیں کہ طلبہ کو ان کے امتحانات دینے تک یہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔ جبکہ مسلم لیگ ق کے سربراہ نے بھی وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کرکے مدرسوں انتظامیہ کے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||