BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 August, 2005, 15:44 GMT 20:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت پر دھاندلی کے الزامات
News image
پاکستان میں حزب اختلاف کی تین بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے علیحدہ علیحدہ کی گئی پریس کانفرنسوں میں حکومت پر بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی اور الیکشن کمیشن پر انتحابی بے قاعدگیاں روکنے میں ناکامی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ الزامات بدھ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے سرکردہ رہنما راجہ پرویز اشرف، متحدہ مجلس عمل کے رہنما سید منور حسن اور مسلم لیگ نواز کے صدیق الفاروق نے لگائے ہیں۔

تینوں رہنماؤں نے صدر جنرل پرویز مشرف پر بھی نکتہ چینی کی اور ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو تینوں مختلف الخیال جماعتیں وسیع تر اتحاد بنا کر اس کی مخالفت کریں گی۔

ان رہنماؤں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بے بس ہوکر رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق جہاں الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات میں سرکاری وسائل کے استعمال کو روکنے میں ناکام رہا وہاں اس نے نتائج کا اعلان بھی تاخیر سے کیا۔

اس بنا پر انہوں نے خود ہی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر سرکاری دباؤ کے تحت نتائج تبدیل کرنے کا سنگین الزام بھی لگایا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن اور حکومت حزب اختلاف کے ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے وفاقی حکومت اور بالخصوص صوبہ سندھ کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت کے جو حامی امیدوار مبینہ دھاندلی کے باوجود بھی جیت گئے ہیں اب ان پر وفادادری تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

سید منور حسن نے اٹھارہ اگست کو منعقد کیے گئے پہلے مرحلہ کے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ انتخابی بے قاعدگیوں کا ذکر کیا اور پچیس اگست کو دوسرے مرحلے میں لاہور سمیت مختلف بڑے شہروں میں ہونے والے انتخابات سے قبل حکومت پر دھاندلی کرنے کے الزامات بھی لگائے۔ انہوں نے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ پر براہ راست مداخلت کرنے کا بھی الزام لگایا۔

صدیق الفاروق نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار کہنا ان پر الزام لگانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے انتخابی دھاندلیوں کے بارے میں تفصیلات تحریری طور پر صحافیوں میں تقسیم کیں اور اسے ’وائٹ پیپر‘ کا نام دیا۔

دریں اثناء مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز کے مقامی رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے مبینہ دھاندلی کا ایک منصوبہ تیار کیا

لاہور پریس کلب میں آج مجلس عمل کے رہنماؤں فرید پراچہ، حافظ سلمان بٹ، مولانا امجد خان اور مسلم لیگ نواز کے صوبائی جنرل سیکرٹری زعیم قادری نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ حکومت نے الیکشن کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کے روز پنجاب کے اٹھارہ ضلعوں میں دھاندلی کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت بیلٹ صندوقوں میں جعلی ووٹ بھرنے سے لیکر انتخابی نتائج کی تبدیلی تک کا عمل شامل ہے۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی فرید پراچہ نے کہا کہ کل لاہور کے ایک کالج میں ضلعی حکومت کے سرکاری افسروں نے پریزائڈنگ افسروں کو بلاکر انہیں کہا ہے کہ وہ حکومت کے ملازم ہیں اور حکومت کی یہ ہدایات ہیں کہ جن امیدواروں کو وہ کہیں وہ انہیں جتوائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر یونین کونسل سے پانچ پانچ پولنگ سٹیشنوں کو دھاندلی کے لیے منتخب کر لیا گیاہے۔ ان کے پریزائڈنگ افسروں کو تین چار روز کے لیے گاڑی فراہم کی گئی ہے اورموبائل فون دئیے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انتقامی کاروائی کی دھمکی دیکر ان سے نتائج کی سادہ شیٹوں (اوراق ) پر دستخط کر الیے گئے ہیں۔ فرید پراچہ کے بقول بعد میں اصل نتائج کی شیٹیں ان جعلی شیٹوں سے تبدیل کر دی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد