ندیم سعید، علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام پنجاب |  |
 |  غیر جماعتی انتخابات ہونے کے باوجود کھلم کھلا مختلف جماعتوں سے وابستگی کا اظہار کیا گیا |
پنجاب میں ضلعی انتخابات میں کامیابی کے بعد حکمران مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں میں اقتدار کی لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ گوجرانوالہ گوجرانوالہ میں غیر سرکاری طور پر ایک سو اٹھاسی میں سے ایک سو بیاسی یونین کونسلوں کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جن میں سے کہا جارہا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے حمائت یافتہ مختلف دھڑوں نے اناسی یونین کونسلوں میں برتری حاصل کی ہے، تینتالیس میں پیپلز پارٹی، گیارہ میں مسلم لیگ نواز اور ایک نشست ایم ایم اے نے حاصل کی ہے۔ اڑتالیس یونین کونسلوں سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ گوجرانوالہ میں ضلعی ناظم کے لیے حکمران مسلم لیگ کے حامد ناصر چٹھ اور بھنڈر گروپ کا آپس میں مقابلہ ہے۔ وزیر آباد سے بتیس یونین کونسلوں میں برتری حاصل کرنے کی وجہ سے حامد ناصر چٹھ گروپ کے امیدوار کی نامزدگی کے امکانات کچھ زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔ سیالکوٹ سیالکوٹ کی ایک سو چوبیس کونسلوں میں سے دو پر حکمران مسلم لیگ کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے جبکہ دس کے نتائج دھاندلی کی شکایات پر روکے گئے ہیں۔ ایک سو بارہ میں سے تہتر پر حکمران مسلم لیگ، گیارہ میں آزاد اور اٹھائیس میں اے آر ڈی کی جماعتوں کے حمایت یافتہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ سیالکوٹ سے حکمران مسلم لیگ کے ہی چھ امیدوار ضلع کونسل کے امیدوار بننے کے خواہشمند ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے مشترکہ امیدوار لانے کا عندیہ دیا ہے۔ سرگودھا سرگودھا میں ایک سو انسٹھ یونین کونسلوں کے اعلان شدہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ افراد نے ایک سو پانچ، پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے پچیس، مسلم لیگ نواز کے امیدواروں نے نو اور متحدہ مجلس عمل کے حمایت یافتہ امیدواروں نے چار نشستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں تو مل کر ایک ہی امیدوار نامزد کر رہی ہیں لیکن حکمران جماعت پراچہ ،چیمہ ، رانجھا اور کلیار گروپوں میں تقسیم ہے اور ضلعی ناظم کے لیے اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کو تیار ہیں۔ خوشاب خوشاب میں باون یونین کونسلوں کے نتائج کے مطابق حکمران مسلم لیگ نے مکمل کامیابی حاصل کی ہے۔ حکمران مسلم لیگ جسے مسلم لیگ ق بھی کہا جاتا ہے کے اعوان گروپ اور ٹوانہ گروپ میں کانٹے دار مقابلہ ہے۔ جنوبی پنجاب جنوبی پنجاب جسے سرائیکی بیلٹ بھی کہا جاتا ہے کے زیادہ تر اضلاع میں حکمران مسلم لیگ کے مختلف دھڑے اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار آپس میں بر سر پیکار نظر آتے ہیں۔ ملتان ملتان کی ایک سو انتیس یونین کونسلوں میں سے اسّی پر حکومتی پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار ناظم اور نائب ناظم کے عہدے پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد عوام دوست گروپ نے بیالیس حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے صنعتکار میاں فیصل مختار کو ملتان میں ضلع ناظم کے عہدے کے لیئے حکومتی پارٹی کا امیدوار مقرر کیا ہے اور ان کے راستے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ فیصل مختار اس سے پہلے ملتان سٹی کے تحصیل ناظم رہ چکے ہیں۔ خانیوال حکومت نے یہاں ضلع ناظم کے عہدے کے لیے ابھی تک کسی کو نامزد نہیں کیا لیکن سابق ضلع ناظم احمد یار ہراج کے گروپ نے سو میں سے مجموعی طور پر پینتیس یونین کونسلوں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ان کے مقابلے میں تحصیل خانیوال میں حکومتی جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے ڈاہا گروپ، میاں چنوں میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ عوام دوست گروپ اور جہانیاں میں حکومتی جماعت کے میتلا گروپ نے زیادہ حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم ہراج گروپ کے مقابلے میں باقی گروپ تقسیم ہیں اور تحصیل کی سطح پر مضبوط نظر آتے ہیں۔ ہراجوں نے تحصیل کبیروالہ میں زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔انتخابات سے دو روز قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے ہراج گروپ کے سربراہ اللہ یار ہراج اور ان کے ضلع نظامت کے امیدوار بیٹے احمد یار سمیت تین دوسرے بیٹوں سے ایوان صدر میں ملاقات کی اور اس حوالے سے ایک گروپ فوٹو بھی پریس کو جاری کیا گیا جس سے حکومتی جھکاؤ کا واضح اشارہ ملتا ہے تاہم مبصرین کے مطابق ہراجوں کو ضلع نظامت دلانے کے لیے حکومت کو کافی پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔ وہاڑی اس ضلع میں حکومت سے تعلق رکھنے والے سابق ضلع ناظم ممتاز کھچی، سعید منیس اور نذیر جٹ گروپ نے انانوے حلقوں میں سے اگرچہ کل ملا کر اٹھاون میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہاں حکومتی پارٹی سخت دھڑے بندی کا شکار ہے اور تینوں دھڑوں کے سربراہ ضلع ناظم بننا چاہتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کی تہمینہ دولتانہ کے حمایت یافتہ امیدوار اکیس حلقوں اور پیپلز پارٹی کے امیدوار سات حلقوں میں کامیاب رہے ہیں۔ پاکپتن یہاں حکومت نے سابق ضلع ناظم امجد جوئیہ کو اسی عہدے کے لیے دوبارہ نامزد کررکھا ہے تاہم ان کے حمایت یافتہ امیدوار چھیاسٹھ میں سے صرف تیرہ حلقوں میں کامیاب ہوسکے ہیں جبکہ ان کے مخالف حکومتی پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے غلام احمد مانیکا اور چند دوسرے دھڑوں نے تئیس حلقوں میں کامیابی حاصل کر رکھی ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوبیس حلقوں میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لودھراں حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والےسابق ضلع ناظم عبدالرحمٰان کانجو اور ان کے ماموں ایم این اے اختر خان کانجو کے درمیان ضلع کے تہتر حلقوں میں زبردست انتخابی معرکہ آرائی ہوئی اور اب دونوں طرف سے کامیابی کے متضاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے خلاف توقع کافی بہتر نتائج حاصل کیئے ہیں اور ضلع ناظم بننے کے لیئے ماموں بھانجے کو ان کی حمایت حاصل کرنا پڑے گی۔ ساہیوال حکومتی جماعت نے رائے حسن نواز کو ضلع ناظم کا امیدوار مقرر کر رکھا ہے وہ اس پہلے بھی ضلع ناظم رہ چکے ہیں۔ساہیوال تحصیل میں انہیں پیپلز پارٹی پیٹریاٹ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نوریز شکور جبکہ چیچہ وطنی میں پی پی پی کی شہناز جاوید کی مخالفت کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر صوبائی وزیر اور مسلم لیگ (ق) کے صوبائی سیکریٹری جنرل ارشد لودھی نے روڑے نہ اٹکائے تو حسن نواز ایک بار پھر ضلع ناظم بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بہاولپور حکومت نے سابق ضلع ناظم اور کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کے جیالے کے طور پر پہچانے جانے والے طارق بشیر چیمہ کوضلع نظامت کے لیئے نامزد کیا ہوا ہے۔ طارق چیمہ نے بہاولپور اتحاد گروپ کے پلیٹ فارم سے ضلع کے ایک سو سات میں سے ساٹھ کے قریب حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے جب کے ان مخالفت میں بننے والے صادق دوست گروپ کے امیدوار چالیس حلقوں میں کامیاب رہے ہیں۔ صادق دوست گروپ کی قیادت نواب صلاح الدین عباسی کر رہے ہیں جبکہ انہیں حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی ریاض پیرزادہ، ملک فاروق اعظم اور علی حسن گیلانی کی مدد حاصل ہے۔ بہاولنگر مقابلہ یہاں بھی حکومتی دھڑوں میں ہی ہے۔ چوہدری پرویز الہیٰ نے سابق ضلع ناظم علی اکبر وینس کو ضلع نظامت کے لیے اپنا امیدوار مقرر کیا ہے اور اس دوڑ میں انہیں صوبائی وزیر خادم کالوکا اور ایم این اے طاہر بشیر چیمہ کی مدد حاصل ہے۔ لیکن ان کے مقابلے میں وفاقی وزیر اعجازالحق، سابق وفاقی وزیر چوہدری غفور اور پی پی پی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے ممتاز متیانہ نے غیر اعلانیہ اتحاد کر رکھا ہے۔ ضلع کے ایک سو اٹھارہ حلقوں میں پچاس پر علی اکبر وینس گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار جبکہ ساٹھ میں ان کے مخالفین کامیاب رہے ہیں۔اس ضلع کی سیاست ارائیں اور جٹ خاندانوں میں تقسیم ہے جبکہ غیر جماعتی انتخابات میں اس طرز کی سیاست کو مزید تقویت ملتی ہے۔ وینس اور چیمہ جٹ برادری جبکہ اعجازالحق اور چوہدری غفور ارائیں برادری کے رہنما ہیں۔ پرویز الہیٰ کو اپنا امیدوار کامیاب کرانے کے لیئے کافی جتن کرنے پڑیں گے کیونکہ ان کا سامنا بہرحال ضیاالحق کے بیٹے سے ہے جو ہمیشہ بہاولنگر سے عام انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ رحیم یار خان وزیر اعلیٰ نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر آنے والے رفیق حیدر لغاری کو ضلع ناظم کے عہدے کے لیے امیدوار مقرر کیا ہے۔ ان کے مدمقابل سابق ضلع ناظم اور بادشاہ گر کے طور پر پہچانے جانے والے مخدوم احمد محمود ہیں۔ مخدوم احمد محمود ضلع میں اتنے بااثر سمجھے جاتے تھے کہ ان کے بارے عام تاثر تھا کہ وہ جسے چاہیں جیت کا مزا چکھا دیں اور جسے چاہیں شکست کی ہزیمت سے دوچار کردیں۔وہ دوسرے اضلاع سے تعلق رکھنے والے چوہدری پرویز الہیٰ، جہانگیر ترین اور ہمایوں اختر عبدالرحمان کو ماضی میں رحیم یار خان سے منتخب کراکے اس کا بات کا عملی مظاہرہ بھی کر چکے ہیں۔ چوہدری پرویز الہیٰ اس وقت رحیم یار خان کی ہی ایک صوبائی نشست سے منتخب ہونے والے وزیر اعلیٰ ہیں۔ضلع نظامت کی دوڑ کے حوالے سے دونوں گروپ متضاد دعوے کر رہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت اس مقابلے میں اب ایک فریق کی سی ہے۔ اسی لیئے وفاقی وزیر پیداوار جہانگیر ترین نے بیان دیا ہے کہ رحیم یار خان کی ضلعی نظامت کا فیصلہ اب صدر مشرف کریں گے۔ ڈیرہ غازی خان حکومت نے سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے سابق ضلع ناظم جمال لغاری کو دوبارہ اسی عہدے کے لیے امیدوار بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ لیکن اٹھارہ اگست کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمال لغاری کو دیرینہ حریف اور مسلم لیگ (ن) کے ذوالفقار کھوسہ سے زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کھوسہ نے فاروق لغاری کے کزن سابق وفاقی وزیر مقصود لغاری کے ساتھ انتخابی اتحاد کر رکھا تھا۔ ان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ضلع کے انسٹھ میں سے تیئس جبکہ جمال لغاری کے امیدواروں نے چوبیس حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار تین جبکہ باقی نو نشستوں پر کسی بھی بڑے گروپ سے تعلق نہ رکھنے والے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جمال لغاری کو ضلع ناظم کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے حکومت کی غیر معمولی مدد درکار ہوگی۔ جبکہ ان کے والد فاروق لغاری نے جو انتخابات کے وقت ملک سے باہر تھے وطن پہنچ کر اپنے پہلے ہی بیان میں کہا ہے کہ چوہدری کون ہوتے ہیں ڈیرہ کے ناظم کا فیصلہ کرنے والے۔ یاد رہے کہ پرویز الہیٰ کی طرف سے ضلع ناظم کا امیدوار مقرر ہونے پر جمال لغاری نے شکریہ ادا کرنے کے لیے اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات دیئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مقصود لغاری کے چوہدری پرویز الہیٰ سے کافی اچھے مراسم ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر چوہدریوں نے اپنا وزن مخالف پلڑے میں ڈال دیا تو موجودہ صورتحال میں لغاریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ راجن پور اس ضلع میں لغاریوں نے مزاری قبیلے کے سربراہ سابق نگراں وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کے خاندان سے انتخابی اتحاد کیا ہوا ہے۔ لیکن ضلع کے چوالیس میں سے ستائیس حلقوں میں ایم این اے نصراللہ دریشک اور ان کے بیٹے پنجاب کے وزیر خزانہ حسنین بہادر دریشک کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ لغاری گروپ کی مہم وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اویس لغاری نے چلائی۔ ان کے امیدوار باقی سترہ حلقوں میں کامیاب رہے۔ نصراللہ دریشک اپنے چھوٹے بیٹے رضا دریشک کو راجن پور کا ضلع ناظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیہ پنجاب کا پسماندہ ترین علاقہ کہلائے جانے والے اس ضلع میں چوالیس حلقے ہیں اور چوہدری پرویز الہیٰ نے سابق ضلع ناظم شہاب الدین سیہڑ کو ہی اگلی مدت کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔ تاہم ان کے امیدوار صرف بارہ حلقوں میں کامیاب ہوسکے ہیں جبکہ حکومتی جماعت سے ہی تعلق رکھنے والے ان کے سسر سابق ایم این اے غلام حیدر تھند بھی ضلع نظامت کے امیدوار ہیں اور ان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے بھی بارہ حلقوں میں کامیابی حاصل کر رکھی ہے جبکہ باقی حلقوں میں پیپلز پارٹی پیٹریاٹ سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نیاز جکھڑ اور حکومتی پارٹی کے ایم پی اے اللہ بخش سامٹیہ کے امیدواروں نے چھ، چھ حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ دونوں بھی اپنی اپنی جگہ ضلع ناظم بننے کے امیدوار ہیں۔ مظفر گڑھ یہاں بھی ضلع نظامت کی دوڑ کے لیئے حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنما کامیابی کے متضاد دعوے کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے سابق ضلع ناظم ملک سلطان محمود ہنـجرا کو دوسری مدت کے لیےامیدوار نامزد کیا ہوا ہے جبکہ مواصلات کے وزیر مملکت انجینئر شاہد جمیل قریشی ان کی بھر پور مخالفت کر رہے ہیں۔ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے سلطان ہنجرا، امجد حمید دستی، عباس قریشی، نور ربانی کھر، شاکر ڈوگر، عبداللہ شاہ اور عاشق گوپانگ نے اپنے اپنے حلقہ اثر میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پی پی پی کے محسن قریشی نے کوٹ ادو اور قیوم جتوئی نے علی پور اور جتوئی تحصیلوں میں کل ملا کے ستائیس حلقوں میں اپنے امیدواروں کو جتایا ہے۔ |