BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومتی جماعتوں کی کامیابی
الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب اور سندھ میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے حامی امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے
الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق پنجاب اور سندھ کے بیشتر علاقوں میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے حامی امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

حزب اختلاف سے ہمدردی رکھنے والے امیدوار بھی بعض علاقوں میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن بعض روایتی نشستیں اور حلقے ان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔

بلوچستان میں بھی جہاں بلدیاتی امیدوار کئی چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں حکمراں اتحاد کے حامی نمائندوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین کے مطابق ملک میں یہ اعتدال پسند قوتوں کی کامیابی ہے۔

انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے باقی 56 اضلاع میں انتخابات میں بھی حکمراں اتحاد کو کامیابی حاصل ہوگی۔

ادھر پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دوسرے گروپوں نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور چیف الیکش کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان جماعتوں نے انتخابی دھاندلیوں سے متعلق عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔تاہم حکومت سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ادھر انتخابی نتائج سے صدر مشرف کو یقینی اطمنان ہوا ہوگا جن کے نزدیک یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں عوام میں اب بھی مقبولیت حاصل ہے۔

ان کے لیے عدم اطمنان کا واحد سبب یہ ہوسکتا ہے کہ صوبہ سرحد میں جو افغانستان سے لگا ہوا ہے ان کے حامیوں کی انتخابی کارکردگی بہتر نہیں رہی۔

ان انتخابات کے پہلے مرحلے میں پاکستان کے ایک سو دس اضلاع میں سے قریباً نصف میں کونسلروں اور ناظمین کا انتخِاب کرایا گیا ہے۔ جب کہ باقی حصوں میں انتخابات آئندہ ہفتے ہوں گے۔

گزشتہ تین روز کے دوران ان انتخابات کے حوالے سے ہونے والے تشدد کے نتیجے میں اب تک کم از کم بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اور اسی طرح امیدواروں نے اپنی سیاسی عدم وابستگی کی یقین دہانیا کرائی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود تمام ہی سیاسی جماعتوں ان میں غیر اعلانیہ یا متبادل نام استعمال کر حصہ لیا۔

سیاسی جماعتیں انتخابات میں رائے دہی سے پہلے ہی حکومت اور حکومتی جماعتوں پر دھاندلی کی الزامات لگاتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد