سندھ، پنجاب: حکومتی پلڑا بھاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے جمعرات کو ملک کے ترپّن اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔ ابھی تک تین ہزار بتیس یونین کونسلوں میں سے ایک ہزار یونین کونسلوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سرکاری نتائج آج رات گئے تک مکمل کر لئے جائیں گے۔ گو ان ابتدائی نتائج سے یہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو گا کہ اس اس غیر جماعتی انتخابات میں چاروں صوبوں میں حکومت کے حامی امیدوار جیتے ہیں یا حزب اختلاف کی جماعتوں کے حمایت یافتہ امیدوار تاہم ہمارے نامہ نگاروں، پاکستانی اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کے مطابق پنجاب اور سندھ میں حکومت کے حامی امیدواروں کا پلڑا بھاری ہے۔ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے گڑھ چار سدہ اور صوابی سے سیٹیں جیت لی ہیں اور اس طرح گذشتہ انتخابات کی مایوس کن کارکردگی کے برعکس اس جماعت کے حامی امیدواروں کی سیاسی عمل میں واپسی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں اور جمیعت علما اسلام کے حامی امیدواروں کے جیتنے کی اطلاعات ہیں۔ اب تک صوبہ بلوچستان کی 275 یونین کونسلوں میں سے ایک سو سے زائد یونین کونسلوں کے نتائج جاری کیے گئے ہیں جبکہ صوبہ سرحد کی 556 یونین کونسلوں میں سے235 یونین کونسلوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سندھ کی 547 یونین کونسلوں میں سے 265 جبکہ پنجاب کی 1656 یونین کونسلوں میں سے 400 کونسلوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں چار ہزار انتالیس امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی پالیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز کے حامی امیدواروں نے پنجاب اور اندرون سندھ کچھ سیٹیں جیتی ہیں مگر ان جماعتوں کے رہنماؤں نے اس الیکشن میں حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ پی پی پی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق الیکشن میں حکومت کی زیر سرپرستی دھاندلی کے بعد الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کی اہمیت بھی مشکوک ہو گئی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ کسی بھی امیدوار نے الیکشن کمیشن سے دھاندلی کے بارے رجوع نہیں کیا ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں سیاسی جماعتوں کا واویلا بلا جواز ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں لہذا الیکشن کمیشن صرف امیدواروں کی شکایات پر کاروائی کرے گا جو ان کے مطابق الیکشن کمیشن کو نہیں ملی ہیں۔ کل ہونے والے انتخابات میں پاکستانی اخبارات نے پندرہ افراد کی ہلاکت کی خبریں دی ہیں مگر وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کی تعداد بارہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||