سرگودھا، خوشاب: دھاندلی و شکایات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وسطی شہروں سرگودھا اور خوشاب میں ماضی کی نسبت گہما گہمی کچھ زیادہ تھی دونوں شہروں میں تعطیل کا سا منظر تھا اور پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کا رش تھا۔ کئی مقامات پر امیدواروں اوران کے حامیوں نے دھاندلی کی شکایت کی اور ہر جگہ دھاندلی کی یہ شکایت صرف حکمران مسلم لیگ کے حامیوں کے خلاف ہی کی گئی۔ جب کہ تناؤ کے شکار ہر پولنگ سٹیشن پر سب اچھا کی رپورٹ دینے والے حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ لوگ تھے اور شکایت کنندہ ان کے مخالف تھے، لیکن بعض یونین کونسلیں ایسی بھی تھیں جہاں معاملات سیاسی پارٹیوں کے مابین نہیں تھے بلکہ مقامی شخصیات کے حامی اور مخالف آپس میں برسرپیکار رہے۔ بھلوال کی ایک یونین کونسل میں لیبر کونسلر کی ایک خاتون امیدوار کا انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر شائع نہیں ہوا۔ سرگودھا میں رحمان پورہ میں ناظم کی سیٹ کے دو امیدواروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں ایک زخمی احتشام کی حالت نازک ہے۔ سرگودھا کی اربن ایریا پولیس نے یونین کونسل ایک سو چوالیس بٹا پانچ میں مسلم لیگ (ق) کے حمایت یافتہ امیدوار اور ان کے ساتھیوں کے خلاف خواتین کے ایک پولنگ سٹیشن سے ووٹوں سے بھرے آٹھ بکس چھین لینے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تھانہ اربن ایریا کے انچارج نے مقدمہ کے اندراج کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تین صندوق برآمد ہوگئے ہیں اور ملزموں کی گرفتاری اور صندوقوں کی بازیابی کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ شاہ پور صدر کے انتخابی عملے نے بتایا کہ ان کے پولنگ بوتھ پر اسی فی صدووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اسے علاقے میں حکمران مسلم لیگ کے دو اراکین قومی اسمبلی شہزادی ٹوانہ اور مظہر قریشی کے حمایتی امیدواروں کے درمیان کشمکش دیکھنے کو ملی اور دونوں کے حمایتی ایک دوسرے کے خلاف شکایت کرتے پائے گئے اس یونین کونسل سے ناظم کے امیدوار مہر غلام مصطفی کے حامیوں نے کہا ہے اس پولنگ سٹیشن پر مقامی رکن صوبائی اسمبلی کے بھائی اور ساتھیوں نے ان کے مخالف امیدوار کے حق میں زبردستی جعلی ووٹ ڈالے ہیں ان کے ایک کارکن محمد نعیم نے کہا ہے کہ ان کی مخالفت کی باوجود حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ نائب ناظم قدیر کے گھر کے عین سامنے پولنگ سٹیشن بنایا گیا اور مقامی سرکاری عملہ بھی ان سے ملا ہوا ہے۔ سرگودھا کی اسی یونین کونسل کے ایک دوسرے پولنگ سٹیشن پر ایک پولنگ ایجنٹ نوید انور نے کہا کہ یہاں صبح بھی جعلی ووٹ بھگتائے گئے لیکن ان کی شکایت پت کسی نے کان نہیں دھرا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||