جنوبی پنجاب: فائرنگ، جھگڑے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے تیرہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولنگ کے آغاز میں ووٹ ڈالنے کی شرح بہت کم تھی جو آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ میلسی، کبیروالہ، ساہیوال اور بورے والہ میں بعض پولنگ سٹیشنوں پر شدید نوعیت کے جھگڑوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ امیدواروں کے حامیوں میں کافی جوش و خروش نظر آ رہا ہے لیکن ووٹرز میں اس جذبے کی کمی ہے۔ امیدواروں کے حامیوں میں ہلکی پھلکی ہاتھا پائی کی اطلاعات تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں۔ میلسی کی یونین کونسل پینتالیس کےایک پولنگ سٹیشن پر ناظم کے عہدے کے ایک امیدوار کے بھائی نےمبینہ طور پر خواتین کے پولنگ بوتھ میں گھسنے کی ناکام کوشش پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے فائرنگ کرنے کے الزام میں چار افراد کو حراست میں لیاہے تاہم مرکزی ملزم کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ کبیروالہ کی یونین کونسل پچاس کے گاؤں چک نورنگ کے پولنگ سٹیشن پر ایک صوبائی وزیر اور ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر مخالف دھڑے سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کو بری طرح مارا پیٹا ہے۔ مذکورہ وزیر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے آبائی گاؤں نورنگ کے پولنگ سٹیشنوں پر صبح سے براجمان ہیں اور مبینہ طور مخالف امیدواروں کے حامیوں اور ووٹرز کو ہراساں کررہے ہیں۔ لودھراں کے گاؤں روانی میں دو متحارب گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک امیدوار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ بورے والہ کے گاؤں چک ستر میں چوہان اور کھچی گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دریں اثناء چیف الیکشن کمشنر نے ملتان کا دورہ کیا جس کے دوران انتظامی اور پولیس افسران سے ملاقاتوں کے علاوہ انہوں نے مسلم گرلز ہائی سکول، گورنمنٹ کالج فار ویمن اور اور انکم ٹیکس کے دفاتر میں قائم پولنگ سٹیشنوں کا معائنہ کیا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے انتخابات کے حوالے سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دینی مدارس کی اسناد کو سپریم کورٹ کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے ناکافی قرار دیے جانے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی اس کی روشنی میں اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔ادھر یورپی یونین کی طرف سے آئے ہوئے مبصرین نے بھی مختلف پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||