BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 August, 2005, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی پنجاب: فائرنگ، جھگڑے

News image
یورپی یونین کےمبصرین نے بھی مختلف پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا
جنوبی پنجاب کے تیرہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

پولنگ کے آغاز میں ووٹ ڈالنے کی شرح بہت کم تھی جو آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔

میلسی، کبیروالہ، ساہیوال اور بورے والہ میں بعض پولنگ سٹیشنوں پر شدید نوعیت کے جھگڑوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

امیدواروں کے حامیوں میں کافی جوش و خروش نظر آ رہا ہے لیکن ووٹرز میں اس جذبے کی کمی ہے۔ امیدواروں کے حامیوں میں ہلکی پھلکی ہاتھا پائی کی اطلاعات تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں۔

میلسی کی یونین کونسل پینتالیس کےایک پولنگ سٹیشن پر ناظم کے عہدے کے ایک امیدوار کے بھائی نےمبینہ طور پر خواتین کے پولنگ بوتھ میں گھسنے کی ناکام کوشش پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے فائرنگ کرنے کے الزام میں چار افراد کو حراست میں لیاہے تاہم مرکزی ملزم کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

کبیروالہ کی یونین کونسل پچاس کے گاؤں چک نورنگ کے پولنگ سٹیشن پر ایک صوبائی وزیر اور ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر مخالف دھڑے سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کو بری طرح مارا پیٹا ہے۔

مذکورہ وزیر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے آبائی گاؤں نورنگ کے پولنگ سٹیشنوں پر صبح سے براجمان ہیں اور مبینہ طور مخالف امیدواروں کے حامیوں اور ووٹرز کو ہراساں کررہے ہیں۔

لودھراں کے گاؤں روانی میں دو متحارب گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک امیدوار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ بورے والہ کے گاؤں چک ستر میں چوہان اور کھچی گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثناء چیف الیکشن کمشنر نے ملتان کا دورہ کیا جس کے دوران انتظامی اور پولیس افسران سے ملاقاتوں کے علاوہ انہوں نے مسلم گرلز ہائی سکول، گورنمنٹ کالج فار ویمن اور اور انکم ٹیکس کے دفاتر میں قائم پولنگ سٹیشنوں کا معائنہ کیا۔

صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے انتخابات کے حوالے سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دینی مدارس کی اسناد کو سپریم کورٹ کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے ناکافی قرار دیے جانے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی اس کی روشنی میں اقدامات کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاحال الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔ادھر یورپی یونین کی طرف سے آئے ہوئے مبصرین نے بھی مختلف پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد