کراچی میں الیکشن کی صبح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں اٹھارہ اگست کی صبح معمول سے اس لیے مختلف نظر آئی کہ بس سٹاپوں پر دفتر اور اسکول کالجز جانے والوں کا رش نہ تھا اور نہ ہی سڑکوں پر ٹریفک کا غیرمعمولی شور جو کراچی شہر کی پہچان ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی کم ہی تھی۔ عام طور پر اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں ایک یہ کہ ٹرانسپورٹر حضرات کسی ممکنہ گڑبڑ کے خدشے کے تحت گاڑیاں کم ہی سڑکوں پر لاتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ الیکشن کے دوران کوچز اور منی بسیں پولیس والے اپنے استعمال کے لیے تحویل میں لے لیتے ہیں۔ سترہ اگست کی شام سے ہی بعض علاقوں میں کوچز اور منی بسیں رینجرز کے اہلکاروں کی تحویل میں آچکی تھیں۔ البتہ گلی محلوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں کھلی ہوئی تھیں اور گلی کے کونے پر بیٹھے موچی حضرات انتخابی عمل سے بے نیاز جوتوں کی مرمت اور انہیں چمکانے میں مصروف تھے اسی طرح شہر کے مصروف علاقے برنس روڈ پر یومیہ اجرت پر کام کے منتظر راج مزدوروں کے چہروں پر بھی انتخابات اور ووٹ کا کوئی عکس نہ تھا۔ اخباروں کے سٹالوں پر بھی عام دنوں کی طرح لوگ شہ سرخیوں پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ عام تعطیل کا سب سے زیادہ فائدہ بچے اور نوجوان اٹھاتے ہیں جو صبح ہی سے گلی محلوں میں کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہوگئے تھے۔ پولنگ شروع ہونے کے دو گھنٹےگزر جانے کے باوجود بعض پولنگ اسٹیشنوں پر سکوت طاری تھا۔ رینجرز کے جوان مستعدی سے بندوقیں تانے کھڑے تھے جبکہ کچھ جگہوں پر پولیس والے اخبار پڑھ کر بوریت دور کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||