BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 August, 2005, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولنگ سے قبل ہی بیلٹ باکس بھر گئے

ایک پولنگ ایجنٹ بھرے ہوئے بیلٹ بکسوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے
ایک پولنگ ایجنٹ بھرے ہوئے بیلٹ بکسوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے
کراچی کے ایک پولنگ سٹیشن پر پولنگ سے قبل ہی بیلٹ باکس بھرے ہوئے پائے گئے۔

شہر کے مصروف علاقے برنس روڈ کے وومن کالج پولنگ سٹیشن پر صبح سوا آٹھ بجے جب بیلٹ باکس دیکھے گئے تو ان میں سے بعض پہلے سے بھرے ہوئے تھے جب کہ بعض کی سیلیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔

ان بیلٹ باکسوں میں نمبر کے ایس 1265، 0441، 0809، 1267 شامل ہیں۔

اس موقع پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافی بھی موجود تھے جنہوں اس صورتحال کو دیکھا اور تصویریں بھی بنائیں۔

پریذائیڈنگ افسر احمد سلیمان نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں جب سرکاری طور پر یہ بیلٹ بکس ملے تو ایسے ہی ملے ہیں، اور ہم ان پر ہی کام کر رہے ہیں۔

اس علاقے میں متحدہ مجلس عمل کے الخدمت گروپ اور متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے حامی امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

News image
اس بیلٹ باکس پر سرکاری ِسیل موجود نہیں

الخدمت پینل کے پولنگ ایجنٹوں کا کہنا ہے کہ قواعد کے مطابق پولنگ شروع ہونے سے پہلے خالی بیلٹ بکس امیدواروں یا ان کے پولنگ ایجنٹوں کو دکھائے جاتے ہیں۔ الخدمت پینل نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے مخالف پینل نے پہلے سے بیلٹ بکس بھر کر رکھ دیے ہیں۔

اس موقع پر شدید کشیدگی بھی پیدا ہوگئی تاہم بعد میں رینجررز کے افسر نے پہلے سے بھرے ہوئے بیلٹ بکس اپنے قبضے میں لے لیے۔

سنی تحریک نے الزام عائد کیا ہے کہ پولنگ کے مقامات پر بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے امیدواروں کے پولنگ کیمپ پولنگ اسٹیشن سے کم از کم دو سو گز کے فاصلے پر قائم ہوتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کے حامی امیدواروں نے شہر کے چاروں اضلاع میں بیشتر مقامات پر پولنگ کیمپ پولنگ اسٹیشن کی دیواروں کے ساتھ قائم کیے ہوئے ہیں اور پولنگ اسٹیشنوں کے ساتھ دیواروں پر بیلٹ پیپر کے رنگ کی سیاہی سے ایم کیو ایم کے امیدواروں کے بارے میں چاکنگ کی گئی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر بوتھ نمبر بھی لکھے ہوئے نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لیاقت آباد میں ان کے انسان دوست پینل کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ پر جاتے ہوئے مخالف پینل نے روکا، ہراساں کیا اور تلاشی لینے کے بعد دھمکیاں دی۔

ڈی آئی جی پولیس آپریشنز کے دفتر میں قائم شکایتی سیل پر موجود میجر ارشد نے بی بی سی آن لائن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کئی علاقوں میں پولنگ عملے یا پھر ایجنٹوں کے نہ پہنچنے کی وجہ سے پولنگ دیر سے شروع ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا بعض مقامات پر فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں تاہم قانون نافذ کرنے والے اہلکار جائے وقوعہ پرگئے ہیں اور مزید تفصیلات ملنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔

ضلعی حکومتوں کے انتخابات کے لیے ملک کے ترپّن اضلاع میں صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہوگئی ہے جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہےگی۔ کراچی شہر کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ دیر سے شروع ہوئی اورصبح کے وقت رش نظر نہیں آیا۔ پولیس اور رینجرز کی نفری ہر پولنگ اسٹیشن کے باہر تعینات ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد