BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 August, 2005, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرن آؤٹ 50%، تصادم میں 8 ہلاک

News image
چار گھنٹے کے بعد نتائج موصول ہونے شروع ہو جائیں گے: کمشن
پاکستان میں جمعرات کو چاروں صوبوں کے تریپن اضلاع میں فوج کی بھاری موجودگی میں یونین کونسلوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے ابتدائی اندازے کے مطابق پولنگ کا تناسب پچاس فی صد سے زائد رہا اور انتخابات پر امن ہوئے۔

تاہم ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں میں پولنگ کے روز آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق تین افراد کی ہلاکت صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں ہوئی جبکہ صوبہ کے ایک اور شہر ڈیرہ اسمعیل خان میں ہونے والے تصادم میں پندرہ افراد زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق باقی پانچ ہلاکتیں پنجاب میں ہوئی ہیں۔

الیکشن کمشن آف پاکستان کے مطابق ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے اور اب سے چار گھنٹے کے بعد الیکشن کمیشن کو نتائج موصول ہونے شروع ہو جائیں گے۔

ان انتخابات میں کئی جگہ سے مبینہ دھاندلی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد کے مطابق الیکشن کمیشن کو ابھی تک دھاندلی کی کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

ملک کے باقی چھپن ضلعوں میں پولنگ پچیس اگست کو ہوگی۔
صوبہ سرحد کے بارہ، صوبہ پنجاب کے سترہ، صوبہ سندھ کے دس اور صوبہ بلوچستان کے چودہ ضلعوں میں یونین کونسلوں کے انتخابات کے لیے پولنگ ہو رہی ہے جہاں تین کروڑ بیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالیں گے۔

اطلاعات کے مطابق پولنگ کے دوران ملک میں امن وامان کی مجموعی صورتحال تسلی بخش رہی ہے تاہم دھاندلی، فائرنگ اور ہاتھا پائی کے کچھ واقعات سامنے آئے ہیں جس کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں ۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور اے پی کے مطابق ان انتخابات میں مخالف گروپوں کے تصادم میں تین سے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
جن اضلاع میں جمعرات کے روز پولنگ ہوئی ان میں کراچی، ملتان، گوجرانوالہ اور پشاور کے شہری اضلاع بھی شامل ہیں جہاں امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے۔

کراچی کے ایک پولنگ سٹیشن پر پولنگ سے قبل ووٹوں سے بھرے ہوئے بیلٹ باکس برآمد ہوئے جس کے بعد اس پولنگ سٹیشن پر پولنگ کا آغاز تاخیر سے ہوا۔کراچی میں مخالف گروپوں کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن ابھی تک وہاں سے کسی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں پولنگ کے دوران دو مخالف گروہوں میں ہاتھا پائی اور پتھراؤ کے نتیجے میں انیس افراد زخمی ہوگئے۔ یہ جھگڑا ووٹروں کے قطار میں کھڑے ہونے کے مسئلہ پر ہوا۔

جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع میں بھی پولنگ کے دوران جھگڑوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ سرحد میں پولنگ سٹیشنوں پر خواتین کی بہت کم تعداد دیکھنے میں آئی ہے۔ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق خواتین کو پولنگ سٹیشنوں پر داخلے سے روکا گیا ہے۔ تاہم صوبہ سرحد کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جن اضلاع میں ووٹنگ ہو رہی ہے وہاں حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور پولنگ صبح آٹھ بجے سے پانچ بجے تک بلاتعطل ہوگی۔

ملک بھر میں جن ترپن اضلاع میں پولنگ ہورہی ہے وہاں گیارہ سو سات نشستیں خالی رہ گئی ہیں جن پر کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔ پنجاب میں آٹھ امیدوار انتخابی مہم کے دروان میں انتقال کرگئے جس سے ان جگہوں پر انتخاب ملتوی کردیا گیا ہے۔

یونین کونسلوں کے لیے منتخب ہونے والے تقریبا اسی ہزار کونسلرز، ناظم اور نائب ناظم انتیس ستمبر کو مقامی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلہ میں تحصیل کونسلوں اور ضلع کونسلوں کے ناظموں اور نائب ناظموں کا انتخاب کریں گے۔

66بلدیاتی انتخابات
پہلے مرحلے کی پولنگ: آپ کی رائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد