اندرونِ سندھ، جوش وخروش کی کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جلسے جلوسوں پر پابندی اور انتخابات کے غیر جماعتی ہونے کی وجہ سے سندھ انتحابات کی روایتی گہما گہمی سے محروم رہا۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی کی وجہ سے برادریوں کا زور رہا۔ بعض علاقوں میں سیاسی پارٹیاں غیر متعلق ہو کر رہ گئیں کیونکہ برادریوں نے سیٹ ایڈجسمنٹ سیاسی پارٹیوں کی بجائے مقامی سطح پر کی۔ اپوزیشن کی جماعتوں کو شکست دینے کے ایجنڈے کے تحت حکومت نے بھی ان برادریوں کی ہمت افزائی کی بلکہ اپنے پینل اور اتحاد میں شامل رکھا۔ جس ک نتیجے میں مستقبل میں سندھ میں قبائلی اثر و رسوخ کو تقویت مل سکتی ہے۔ انتخابات سے چند ہی روز قبل میرپورخاص، بدین، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، دادو، جامشورو میں سابق ضلع ناظمین اور اسمبلی ممبران اور امیدواروں کے خلاف مقدمات درج کیےگئے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن حکمران اتحاد کی جماعتوں پر سرکاری مشینری کا استعمال، پولیس کے تبادلے، اضلاع کی غیر منصفانہ تقسیم اور حد بندی کے الزامات عائد کرتی رہی اور پیپلز پارٹی کو یہ شکایت رہی کہ ان کی دائر کی گئی شکایات کا الیکشن کمیشن نے سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جولائی اور اگست کے دونوں ماہ انتخابی مہم کے لیے اندرون سندھ گزارے۔ ایسے ماحول میں سندھ کے دس اضلاع میں جمعرات کو بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوئی۔ دوپہر تک مختلف اضلاع سے ملنے والی معلومات کے مطابق انتخابی جھگڑوں میں آدھ درجن سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بعض مقامات پر پولنگ عملے کو یرغمال بنا کر بیلٹ پیپر چھیننے، پولنگ ایجنٹوں کو اغوا کرنے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ سانگھڑ ضلع میں جھول کی یو سی کرکلی میں پیپلز پارٹی کے حامی عوام دوست پینل نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا اور پولنگ اسٹیشن کے باہر لگائے گئے کیمپ اکھاڑ دیے۔ پی پی سانگھڑ کے صدر رہنما الطاف رند کا کہنا تھا کہ بائیکاٹ کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ پگارا لیگ کے فقیر دوست پینل کے لوگوں نے رات ہی سے پولنگ اسٹیشنوں پر مسلح افراد کھڑے کر دیے تھے۔ ٹنڈو الہ یار میں مسلح افراد نے ایک لیڈیز پولنگ اسٹیشن پر عملے کو یرغمال بنا کر چھ ووٹر بک چھین لیں اور پرزائیڈنگ آفیسر مخدوم عنایت اور اسسٹنٹ پرزائیڈنگ آفیسر اصغر سومرو کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ قبائلی پٹی پر واقع کشمور ضلع فوج اور رینجرز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ کشمور میں رسالدار پولنگ سٹیشن پر پولنگ جھگڑے کے بعد بند کردی گئی۔ کشمور میں چار یونین کونسلوں کی پولنگ اسٹیشنوں پر جھگڑے کے بعد دو پولنگ سٹیشن بند کر دیے گئے۔ ان جھگڑوں میں پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ کندھ کوٹ کی یونین کونسل دولت پور میں بیلٹ پیپر پر انتخابی نشانات نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ شروع نہ ہو سکی۔ کنڈ یارو میں تین امیدواروں کے انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر نہ ہونے کی وجہ سے یونین کونسل کی دس پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ روک دی گئی۔
تھر پارکر میں وزیرِاعلی سندھ کی آبائی یونین کونسل کلوئی کے بارے میں پیپلز پارٹی نے شکایت کی ہے کہ لیڈیز بوتھ پر سرکاری امیدوار کے حامیوں نے دھاوا بول دیا اور بیلٹ بکس بھر دیے انہوں نے یہ بھی شکایت کی کی ڈھوڈارو میں پولنگ اسٹیشن وزیرِاعلیٰ ہاؤس 2 میں قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے حامی امیدوار کو اغوا کرنے کی بھی شکایت کی ہے۔ ٹھٹہ ضلع میں دو پہر تک بہت کم ووٹ کاسٹ کئے گئے۔ یہاں پر ووٹروں نے شکایت کی کہ انتخابی فہرستوں میں ان کے نام درج نہیں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||