کراچی: ’دھاندلی‘ دس گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں چالیس ہزار پولیس اور رینجرز کی نفری اور فوج کے گشت کے باوجود فائرنگ تشدد اور دھاندلی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ شھر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کرنے اور دھاندلی کے الزام میں پولیس اور رینجرز نے دس سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ جن میں چار سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ پولنگ اسٹیشن میں تصادم میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہوگیا ہے۔ پولیس کے مطابق برنس روڈ کے گرلز کالج میں قائم پولنگ سٹیشن پر پولنگ ایجنٹوں کی نشاندہی پر ڈالےگئے ووٹوں سے بھرے ہوئے کئی بکس قبضے میں لے کر پریزائیڈنگ افسر احمد سلیمان کوگرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان بکسوں سے 24 سو کاسٹ شدہ ووٹ برآمد ہوئے ہیں۔ لیاری کالج کے پولنگ اسٹیشن پر رینجرز نے کارروائی کر کے پرویز نامی ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے تین بیلٹ بکس برآمد کیے ہیں۔ جن پر ملزم کے حامی امیدوار کے نام پر ووٹ کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ صدر کے علاقے میں فلورنس اسکول کے پولنگ اسٹیشن سے رینجرز نے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گڈاپ کے علاقے میں سچل آباد کے پولنگ اسٹیشن سے ایک امیدوار کے حامی خادم کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ گارڈن کے علاقے میں پولیس نے ایک مشکوک کار کی تلاشی کے دوران ماؤذر اور گولیاں برآمد کی ہیں۔ پیر آباد کے علاقے میں ایک پولنگ اسٹیشن پر دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے دوران ایک پولیس کا سپاہی زخمی ہو گیا ہے۔ صدر کے ٹاؤن کے علاقے عثمان آباد اور اسلام پورہ کے عظیم پرائمری اسکول کے پولنگ اسٹیشن کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے باعث کچھ دیر کے لیے پولنگ روک دی گئی۔ کراچی کے علاقے قائدآباد میں بیلٹ پیپرز پر پانچ امیدواروں کے انتخابی نشانات نہ ہونے پر ان کے حامیوں نے بیلٹ بکس توڑ کر کاسٹ شدہ ووٹ پھاڑ دیے۔ صبح کے نسبت دوپہر کو ووٹروں کی زیادہ تعداد دیکھنے میں آئی۔ سب سے زیادہ رش کراچی کے قدیمی علاقے لیاری میں دیکھنے کو ملا جہاں میلے کا سا سماں تھا۔ کیمپوں پر سیاسی جماعتوں کے نغے بج رہے تھے۔ جبکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ لیاری کے اکثر پولنگ اسٹیشنوں پر خاص کر خواتین نے ووٹر لسٹوں میں نام موجود نہ ہونے کی شکایت کی۔ ناظم کے ایک آزاد امیدوار صدیق بلوچ نے کہا کہ گزشہ بیس برسوں سے ووٹ دینے والوں کے بھی نام موجود نہیں ہیں۔اگر کسی خاندان کے دو افراد کے نام ہیں تو چار کے گم ہیں۔ اسی طرح لیاری، جمشید ٹاؤن، کیماڑی، لانڈھی، ملیر، صدر ٹاؤن کے علاقوں میں امیدواروں کے انتخابی نشانات بیلٹ پیپر میں موجود نہیں تھے۔ لیاری کے یونین کونسل دس میں دوپہر ایک بجے اقلیتی امیدواروں کے بیلٹ پیپر پہنچائے گئے۔ جبکہ کافی پولنگ اسٹیشنوں پر ان مٹ سیاہی موجود نہیں تھی۔ کیماڑی کی یونین کاؤنسل آٹھ میں سیاہی کی عدم دستیابی کی وجہ سے دو گھنٹے پولنگ دیر سے شروع ہوئی ہے۔ ملیر کی جعفر طیار سوسائٹی میں الخدمت گروپ کے یونین کونسل کے ناظم کے امیدوار کریم بخش کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ الخدمت گروپ نے اس کا الزام مخالف گروپ پر عائد کیا ہے۔ پی پی پی کی مانیٹرنگ کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے امیدواروں اور ان کے حامیوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔کورنگی ۔صدر ٹاؤن ۔کیماڑی۔ میں دھاندلی کی جارہی ہے۔ ایم کیو ایم کے لوگ بیلٹ باکس بھر رہے ہیں۔ دوسری جانب سنی تحریک نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ایجنٹوں کو مخالف گروپ نے پولنگ اسٹشنوں سے باہر نکال دیا اور دھاندلی کی جبکہ رینجرز نے موجودگی کے باوجود کچھ نہیں کیا۔ سنی تحریک کے انسان دوست پینل نےفائرنگ کے واقعے کے بعد صدرٹاؤن کی یونین کونسل سات میں انتخابات کا بائیکاٹ کردیا ہے۔تحریک کا کہنا ہے کہ وحشیانہ تشدد کے بعد ایسا کیا گیا۔ دوسری جانب شکایات موصول کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم میں موجود رینجرز کے میجر ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو بھی ووٹر لسٹوں میں نام کی عدم موجودگی۔بیلٹ پیپرز میں امیدواروں کے انتخابی نشانات موجود نہ ہونے کی شکایت موصول ہوئی ہیں۔ اس طرح اکثریت والے علاقوں سے مخالف جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سائیٹ ایریا۔گلشن اقبال۔ملیر۔لانڈھی اور کورنگی سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||