پولنگ، لڑائیاں، فائرنگ، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج کی بھاری موجودگی میں جمعرات کو پاکستان کے چاروں صوبوں کے ترپن ضلعوں میں یونین کونسلوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ملک کے باقی چھپن ضلعوں میں پچیس اگست کو ووٹنگ ہوگی۔ صوبہ سرحد کے بارہ، صوبہ پنجاب کے سترہ، صوبہ سندھ کے دس اور صوبہ بلوچستان کے چودہ ضلعوں میں یونین کونسلوں کے انتخابات کے لیے پولنگ ہو رہی ہے جہاں تین کروڑ بیس لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالیں گے۔ پولنگ کے دوران ملک میں امن وامان کی مجموعی صورتحال تسلی بخش رہی ہے تاہم دھاندلی، فائرنگ اور ہاتھا پائی کے کچھ واقعات سامنے آئے ہیں۔ آج جن ضلعوں میں پولنگ ہورہی ہے ان میں کراچی، ملتان، گوجرانوالہ اور پشاور کے شہری اضلاع بھی شامل ہیں جہاں امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوج تعینات کی گئی ہے۔ کراچی کے ایک پولنگ سٹیشن پر پولنگ سے قبل ووٹوں سے بھرے ہوئے بیلٹ باکس برآمد ہوئے جس کے بعد اس پولنگ سٹیشن پر پولنگ کا آغاز تاخیر سے ہوا۔ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں پولنگ کے دوران دو مخالف گروہوں میں ہاتھا پائی اور پتھراؤ کے نتیجے میں انیس افراد زخمی ہوگئے۔ یہ جھگڑا ووٹروں کے قطار میں کھڑے ہونے کے مسئلہ پر ہوا۔ جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع میں بھی پولنگ کے دوران جھگڑوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جن اضلاع میں ووٹنگ ہو رہی ہے وہاں حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور پولنگ صبح آٹھ بجے سے پانچ بجے تک بلا وقفہ ہوگی۔ ملک بھر میں جن ترپن اضلاع میں پولنگ ہورہی ہے وہاں گیارہ سو سات نشستیں خالی رہ گئی ہیں جن پر کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔ پنجاب میں آٹھ امیدوار انتخابی مہم کے دروان میں انتقال کرگئے جس سے ان جگہوں پر انتخاب ملتوی کردیا گیا ہے۔ یونین کونسلوں کے لیے منتخب ہونے والے تقریبا اسی ہزار کونسلرز، ناظم اور نائب ناظم انتیس ستمبر کو مقامی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلہ میں تحصیل کونسلوں اور ضلع کونسلوں کے ناظموں اور نائب ناظموں کا انتخاب کریں گے۔اس |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||