جنوبی پنجاب، حکومتی اکثریت؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے تیرہ اضلاع میں جمعرات کوہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکومتی حمایت یافتہ امیدواروں کو واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آرہی۔ خصوصاً ان اضلاع میں حکومتی امیدواروں کو مشکلات کا سامنا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے ضلع اور تحصیل ناظمین کے لیے امیدواروں کا قبل از وقت اعلان کر رکھا ہے۔ ان اضلاع میں حکومتی پارٹی کے ناراض ارکان نے بھی حزب مخالف کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر رکھا تھا۔ یاد رہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں منتخب ہونے والے نمائندے انتیس ستمبر کو ضلع اور تحصیل ناظمین کے چناؤ میں اہم کردار ادا کرینگے۔ ضلع بہاولنگر میں وزیر اعلیٰ نے سابق ضلع ناظم علی اکبر وینس کو دوبارہ اسی عہدے کے لیئے امیدوار نامزد کیا ہے۔ لیکن اس فیصلے سے ناراض وفاقی وزیر اعجازالحق اور حکومتی مسلم لیگ ہی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر چوہدری غفور نے پیپلز پارٹی کے ایم این اے ممتاز متیانہ، ایم پی اے راؤ اعجاز اور مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر سابق
بہاولپور میں بھی سابق ضلع ناظم طارق بشیر چیمہ کو دوبارہ نامزد کیا گیا ہے۔ یہاں ان کے مقابلے میں نواب صلاح الدین عباسی نے صادق دوست گروپ تشکیل دیا جس میں حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی ریاض پیرزادہ، فاروق اعظم اور علی حسن گیلانی نے شمولیت اختیار کی۔ طارق چیمہ کے بہاولپور اتحاد گروپ میں رکن قومی اسمبلی تسنیم نواز گردیزی اور ایم پی اے ڈاکٹر افضل شامل ہیں۔ اس ضلع کی ایک سو سات یونین کونسلوں میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق بہاولپور اتحاد نے تریپن حلقوں جبکہ صادق دوست نے پچاس حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ باقی چار حلقوں میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ خانیوال میں اللہ یار ہراج گروپ کو حکومت کی حمایت حاصل تھی جبکہ اس کے ممکنہ اتحادیوں میں وزیر مملکت رضا حیات ہراج اور صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی شامل ہیں۔ اللہ یار گروپ کے مقابلے میں حکومتی پارٹی ہی تعلق رکھنے والے نشاط احمد ڈاہا اور رزاق نیازی نے پیپلز پارٹی پٹریاٹ کے ایم این اے پیر اسلم بودلہ اور اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کے ساتھ مل کر امیدوار کھڑے کیے۔ ایک اور حکومتی رکن قومی اسمبلی مرتضیٰ میتلا نے جہانیاں میں اللہ یار ہراج کے حمایت یافتہ واہلا گروپ کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے کیئے اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیابی حاصل کی۔ خانیوال کے ایک سو حلقوں میں سے اللہ یار ہراج اور ان کے ساتھیوں کو پینتیس میں کامیابی ہوئی ہے جبکہ باقی حلقوں میں ان کے مخالف حکومتی ارکان اور اپوزیشن اتحاد کو کامیابی ملی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں ضلعی نظامت کے حکومت کی طرف سے نامزد امیدوار سابق ضلع ناظم جمال لغاری کو بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ضلع کے انسٹھ حلقوں میں سے پچیس پر جمال لغاری کے حمایت یافتہ امیدوار جبکہ بائیس پر ان کے مخالف کھوسہ لغاری اتحاد کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ تین حلقوں میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ جبکہ نو حلقوں میں آزادانہ طور پر لڑنے والے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکپتن میں بھی حکومت کی طرف سے سابق ضلع ناظم امجد جوئیہ کو اسی عہدے کے لیئے دوبارہ نامزد کیا گیا ہے۔ ضلع کے تریسٹھ حلقوں میں سے ان کے حمایت یافتہ امیدوار صرف تیرہ حلقوں میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ جبکہ متحدہ اپوزیشن نے چوبیس حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم حکومتی مسلم لیگ کے جوئیہ مخالف دھڑوں نے تیئس حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیہ میں وزیر اعلیٰ نے شہاب الدین سیہڑ کو ضلع ناظم کے لیئے نامزد کر رکھا ہے ۔شہاب الدین اس سے قبل بھی ضلع ناظم تھے۔ ان کے خلاف پیپلز پارٹی پیٹریاٹ سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نیاز جکھڑ نے مسلم لیگ (ق) کے ارکان پنجاب اسمبلی اللہ بخش سامٹیہ، چوہدری الطاف اور ایم ایم اے کے اصغر گجر کے ساتھ مل کر اتحاد تشکیل دیا۔ جبکہ شہاب الدین کے سسر سابق ایم این اے غلام حیدر تھند بھی اپنے داماد کے مقابلے میں ضلع ناظم کے امیدوار ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق لیہ کے چوالیس حلقوں میں سے تھند اور شہاب نے بارہ، بارہ جبکہ جکھڑ اور ان کے اتحادیوں نے سترہ حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||