شہرمیں اپوزیشن،گاؤں میں حکومتی حامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ اگست کے انتخابات میں حزب اختلاف کے امیدواروں نے کراچی کے سوا ملک کے تمام شہروں کی یونین کونسلوں میں اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں حکمران جماعت کا پلہ بھاری ہے۔ وزیرِاعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے مطابق غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے جانے والے مقامی انتخابات کے پہلے مرحلے میں صوبہ میں تقریبا پچاس فیصد ووٹ ڈالے گئے جبکہ کامیاب ہونے والے ستر فیصد امیدوار ان کی جماعت کے حمایت یافتہ ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے مقامی انتخابات سے پہلے شہر شہر جلسے کیے لیکن کراچی کے سوا ملک کے شہروں میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں کو شکست سے نہ بچا سکے۔ پشاور شہر میں جماعت اسلامی کا الخدمت گروپ، سیالکوٹ شہر میں مسلم لیگ(نواز)، گوجرانوالہ شہر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(نواز)، سرگودھا شہر میں حزب اختلاف کے عوام دوست گروپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کی اکثریت یونین کونسلوں کے ناظموں اور نائب ناظموں کی نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔ ملتان شہر میں بھی مسلم لیگ(نواز) اور پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ ارکان کی بڑی تعداد منتخب ہوئی ہے۔ تاہم حزب اختلاف کی شہری حدود کی یونین کونسلوں میں کامیابی اسے ضلع ناظم کی نشستیں جیتنے میں شائد مدد نہ دے سکے کیونکہ ان انتخابات سے پہلے حکومت نے پنجاب کے چار بڑے شہروں ملتان، راولپنڈی، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کو شہری ضلع قرار دے کر مختلف ٹاؤنز میں تقسیم کردیا تھا۔ حکومت نے ان شہری ضلعوں کے ٹاؤنز کی حد بندی اس طرح کی ہے جیسے پیٹزا کے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں یعنی ہر ٹکڑا اندر کی طرف چھوٹا اور باہر کی طرف بڑا ہوتا۔ ان ٹاؤنز میں مرکز میں شہری علاقہ کی کچھ یونین کونسلوں کو دیہی علاقوں کی بہت سی یونین کونسلوں کے ساتھ ملا کر ایک ٹاؤن بنایا گیا ہے تاکہ ہر ٹاؤن میں شہری یونین کونسلیں کم اور دیہی یونین کونسلیں زیادہ ہوں۔ اس طرح دیہی علاقوں میں حکومت کی برتری اسے ٹاؤنز کے ناظموں اور ضلعوں کے ناظموں کا انتخاب جیتنے میں مدد دے گی۔ مقامی الیکشن سے پہلے پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی ملتان میں مسلم لیگ نواز کے تقریبا تمام بڑے سیاستدانوں جیسے حافظ اقبال خاکوانی، مجاہد شاہ اور اس سے پہلے شیخ طاہر رشید وغیرہ کو حکمران مسلم لیگ میں شامل کروانے میں کامیاب ہوئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ نظریاتی مسلم لیگی پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتے اس لیے وہ مسلم لیگ نواز چھوڑ کر حکومتی مسلم لیگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ضلع شیخوپورہ میں شرقپور سے میاں محمد اظہر کو شکست دینے والے مسلم لیگ(نواز) کے رکن قومی اسمبلی جلیل شرقپوری بھی وفاداری تبدیل کرکے سرکاری مسلم لیگ میں شامل ہوگئے ہیں جنہیں مبینہ طور پر شیخوپورہ کے ضلعی ناظم کا عہدہ دیا جارہا ہے۔ رحیم یار خان میں پیپلز پارٹی کے رفیق لغاری کو حکومتی گروپ میں شامل کرایا گیا ہے اور وہ ضلعی ناظم کے امیدوار قرار دیے گئے ہیں۔ مسلم لیگ کے ہی وفاقی وزیر جہانگیر ترین کا گروپ ان کے مخالف انتخابات لڑ رہا تھا اور اس نے پنجاب کے وزیرِاعلٰی چودھری پرویز الہٰی کے حمایت یافتہ رفیق لغاری کے گروپ پر برتری حاصل کی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں سابق صدر مملکت فاروق لغاری کے گروپ کو مسلم لیگ(نواز) کے ذوالفقار کھوسہ کےگروپ کے ہاتھوں بری طرح شکست ہوئی ہے۔ فاروق لغاری کے بیٹے جمال لغاری ضلع کے ناظم تھے۔ فاروق لغاری اپنی ملت پارٹی کو حکمراں مسلم لیگ میں ضم کر چکے ہیں لیکن چند ماہ پہلے انہوں نے مسلم لیگ کے دوسرے رہنماؤں جیسے حامد ناصر چٹھہ اور منظور وٹو کے ساتھ مل کر گجرات کے چودھری برادران کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اب شاید وہ ایک بار پھر چودھری برادران اور خاص طور پر پنجاب حکومت کو اپنی شکست کا ذمہ دار قرار دیں۔
گو اٹھارہ اگست کو پولنگ کے دوران میں ووٹ ڈالنے کے عمل میں تو دھاندلی کی کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی لیکن حکمران جماعت اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی کے لیے پہلے ہی مختلف طریقوں سے زمین ہموار کرچکی تھی جس کا آغاز صدر جنرل پرویز مشرف نے اس سال کے شروع میں ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کر کے کیا تھا۔ حزب اختلاف کو ایسے جلسے جلوسوں کی اجازت نہیں دی گئی۔ الیکشن کے موقع پر ہی پنجاب حکومت نے کسانوں کو سستی بجلی دینے کا اعلان کیا اور میڈیا میں کروڑوں روپے سے اس کی اشتہاری مہم چلائی۔ بعد میں حزب اختلاف کے سیاستدانوں کو وفاداریاں تبدیل کروا کے حکمران جماعت میں شامل کرایا گیا۔ کئی جگہوں پر حکومت مخالفین کے خلاف پولیس نے مقدمات قائم کر کے انہیں حراست میں لیا جیسے گجرات اور سیالکوٹ میں۔ حزب اختلاف کے خلاف جانے والے تمام حکومتی اقدامات کے باوجود شہروں میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا بڑی تعداد میں یونین کونسلوں کی نشستیں جیتنا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ شہروں میں حکومتی جماعت کے لیے انتخابات میں ریاستی اقتدار کے ذریعے ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی اہلیت نسبتا کم ہوتی ہے اور ان کے نتائج رائے عامہ کا مقابلتاً آزادانہ اظہار سمجھے جاسکتے ہیں۔ دوسرے، مقامی انتخابات کی حیثیت ضمنی انتخابات جیسی ہوتی ہے جن میں حکومت کو اقتدار میں ہونے کا فائدہ پہنچتا ہے۔ عام طور ووٹروں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ جو پارٹی صوبائی اور وفاقی حکومت میں ہے وہ مقامی کام زیادہ کر سکتی ہے۔ شہروں میں حزب اختلاف کی کامیابی حکومت اور اقتدار کے اصل منبع صدر جنرل پرویز مشرف کی شہری اور متوسط طبقہ میں ان کی مقبولیت یا عدم مقبولیت کا پیمانہ بھی قرار دی جا سکتی ہے کیونکہ وہ خود جلسے جلوسوں کے ذریعے کچھ دنوں پہلے تک حکومتی پارٹی کے لیے راہ ہموار کرتے رہے ہیں۔ سوات کے جلسے میں تو انہوں نے کھل کر لوگوں کو حکمران مسلم لیگ کو ووٹ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مقامی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں لاہور اور فیصل آباد کے شہروں میں حزب اختلاف حکومتی امیدواروں کا کیسے مقابلہ کرتی ہے یا ان شہروں میں حکومت اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے بہتر بندوبست کر پاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||