جعلی ووٹ: 22 خواتین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں جہاں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں عورتوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا چرچا رہا وہیں دوسری جانب صرف پشاور میں بائیس خواتین جعلی ووٹ بھگتانے کے الزام میں گرفتار بھی ہوئی ہیں۔ جمعہ کوایک مقامی عدالت نے ان بائیس عورتوں کو چودہ روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ یہ عورتیں پشاور کے یونین کونسل حسن گڑھی ٹو کے ایک پولنگ سٹیشن میں جعلی شناختی کارڈز کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے الزام میں گرفتار ہوئی تھیں۔ انہیں دفعہ 420، 410 اور 419 کے تحت لیڈی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ صوبہ سرحد میں خواتین کے پردے یا شناختی کارڈز پر تصاویر نہ ہونے کی وجہ سے ہر انتخاب میں دھاندلی کا امکان زیادہ دیکھا گیا ہے۔ کوئی بھی عورت کسی کے بھی شناختی کارڈ کے ساتھ ووٹ ڈال سکتی ہے۔ ادھر ایک اور دلچسپ واقعے میں ایک خاتون کو ان کے ووٹ کے غلط اندراج کی وجہ سے اپنا ووٹ مردوں کے پولنگ سٹیشن میں ڈالنا پڑا۔
حالات اور ووٹ کی ضرورت کے پیش نظر اس خاتون نے مجبورا اپنا ووٹ مردانہ پولنگ سٹیشن میں ڈالا۔ دوسری جانب انتخابی تشدد میں عورتوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ مردان میں دو عورتیں کامیابی کی خوشی میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئیں۔ لیکن عورتوں سے متعلق جو موضوع ان انتخابات میں اہم رہا وہ تھا کئی علاقوں میں انہیں ووٹ ڈالنے کے عمل سے دور رکھنا۔ مقامی مشیران یا امیدواروں کے فیصلے کے تحت درجنوں یونین کونسلوں میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا۔ ان میں اخباری اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال کے حلقے میں بھی خواتین کواس قسم کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ پشاور کے علاوہ مردان، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان بلکہ تقریبا تمام بارہ اضلاع میں کہیں نہ کہیں عورتوں کو کسی نہ کسی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ کہیں مقامی مشیران، کہیں گرم موسم تو کہیں سکیورٹی کی خراب صورتحال اور کہیں مقامی روایات کا عذر ظاہر کرکے خواتین کو گھروں میں رکھا گیا۔
ان کی مداخلت پر پشاور کے مضافات میں تین یونین کونسلوں میں مقامی جرگوں نے اخبارات کی حد تک تو بیانات میں عورتوں پر پابندی واپس لینے کا اعلان کیا لیکن دراصل صورتحال جوں کی توں رہی۔ ان علاقوں کے مشیران کا موقف تھا کہ عورتیں ووٹ ڈالنے کے لئے آزاد ہے لیکن ان کی عورتیں باہر آنے کو تیار نہیں اور وہ انہیں زبردستی ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ تاہم ان جاری بلدیاتی انتخابات میں عورتوں سے متعلق واحد تسلی بخش بات ان گیارہ سو سے زائد خواتین کا بلامقابلہ منتخب ہونا ہے۔ الیکشن کمیشن کےمطابق گیارہ سو پچاس عورتیں پہلے ہی انتخابات کے دونوں مراحل میں منتخب ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ بااعتماد خواتین ناظم اور نائب ناظم نے بھی ان انتخابات میں حصہ کیا ہے۔ ان کا تعلق بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے قدامت پسند علاقوں سے تھا۔ ایک اور مثبت بات اس مرتبہ خواتین ووٹروں کے موضوع پر ذرائع ابلاغ میں سیرحاصل بحث رہی۔ ہرٹی وی اور ریڈیو چینل نےاس موضوع پر بات کی جبکہ اخبارات نے پہلے صفحات پر اس سے متعلق خبریں بھی شائع کیں۔ بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں دوسرے مرحلے میں عورتوں کے لئے سخت ترین اضلاع میں پولنگ ہونے والی ہے۔ ان میں دیر اور بٹگرام کے وہ اضلاع بھی شامل ہیں جہاں آغاز میں ہی مقامی رہنماؤں نےعورتوں کےانتخاب میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||