فیصلہ چند روز میں کرونگا:نعمت اللہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے سابق سٹی ناظم اور الخدمت گروپ کے سربراہ نعمت اللہ خان نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد وہ سٹی ناظم کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں ساتھیوں سے مشورہ کریں گے اور یہ فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائےگا۔ غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کے بعد بی بی سی آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے نعمت اللہ خان نے بتایا کہ انتخابات میں انتہائی اعلیٰ درجے کی دھاندلی ہوئی ہے اور پہلے سے بیلٹ بکس بھرے گئے تھے۔ نعمت اللہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مخالف امیدواروں کو ووٹ نہ ملنا ان پر عوام کا عدم اعتماد نہیں ہے بلکہ عوام کی رائے کو پیروں تلے روندا گیا ہے۔ کیونک عوام تو کچھ اور چاہتے تھے۔ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کی جماعت اسلامی کے دفتر آمد کو سیاسی حربہ قرار دیا اور کہا کہ ایم کیو ایم لوگوں میں اپنا امیج درست کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم عام پبلک کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے اور سر عام معافی مانگے۔ صدر پرویز مشرف کے متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام میں کراچی کے سٹی ناظم بڑی اہمیت کے حامل رہے ہیں اور سخت سیاسی مخالفت کے باوجود وہ میدان میں ڈٹے رہے۔
سیاسی طور پر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نعمت اللہ خان اگست انیس سو سینتالیس میں اجمیر سے پاکستان آئے اور کراچی میں رہائش اختیار کی۔ انہوں نے میٹرک انڈیا سے ہی کیا تھا جبکہ بی اے، ایل ایل بی کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ پیشے کے لحاظ سے وکیل نعمت اللہ نے ایم اے صحافت میں کیا ہوا ہے۔ نعمت اللہ خان نے انیس سو اڑسٹھ میں وکالت شروع کی۔ لیکن سیاست اس سے پہلے شروع کردی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ انیس سو ستاون میں جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے تھے۔ انہوں نے تین مرتبہ اسمبلی کا الیکشن لڑا لیکن ایک ہی مرتبہ غیر جماعتی انتخابات میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہو سکے۔ چھ بیٹوں اور تین بیٹیوں کے باپ نعمت اللہ مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں۔ ان کے ایک بیٹے کینیڈا میں ہیں جبکہ بڑے بیٹے ان کے کاروبار کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کراچی سے پیار ہے کیونکہ اس شہر نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ وہ اس شہر کو کچھ نہ کچھ لوٹا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ بطور سٹی میئر ان کی چھ ترجیحات تھیں۔ جس میں پینے کا پانی، نکاسی آب، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ نئے بلدیاتی نظام سے قبل کراچی کا بجٹ صرف پانچ سے چھ ارب روپے تھا لیکن انہوں نے پہلا بجٹ بیس ارب روپے کا، دوسرا ستائیس ارب کا اور تیسرا بتیس ارب کا پیش کیا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ کراچی کے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کو ورلڈ میئر ایوارڈ 2005 کے لیے نامزد کیاگیا ہے۔ ان کا نام دنیا کے پینسٹھ میئروں کی فہرست میں ہے جن میں سے کسی ایک کا انتخاب ہوگا۔ ایم کیو ایم نے ان پر ناکامی اور پبلک پارک بنانے پر سخت تنقید کی مگر الخذمت پینل کے امیدوار ایڈووکیٹ نعمت للہ خان پاکستان میں ناظم کے پہلے امیدوار ہیں جنہوں نے اپنے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی شہری حکومت بنی تو پورے شہر میں سرویلینس نظام نصب کریگی۔امن دشمن عناصر سے شہر کو پاک کرنے کے لیے ٹھوس انتظامات کیے جائینگے۔ ان کے مطابق خراب امن امان کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ بیروزگار بھی ہے۔جس کے خاتمے کے لیے دس ہزار ملازمتوں کے مواقع فوری پیدا کیے جائینگے۔ میں شہر میں اڑتالیس فلائی اوور اور زیر زمین گزرگاہوں کے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ ہرٹاؤن کی سطح پر اٹھارہ ہسپتالوں کا قیام مکمل کیا جائیگا جبکہ شہر کے چار ہزار سرکاری پرائمری اسکولوں کو ماڈل اسکولز میں تبدیل کیا جائیگا۔ اپنے سفر کو روشنی کا سفر قرار دینے والے نعمت اللہ خان سیاست کے افق پر جگمگائیں گے یا نہیں یہ فیصلہ آئندہ ایک ہفتے میں ہوجائیگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||