نعمت اللہ خان ایوارڈ کے لیے نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کو ورلڈ میئر ایوارڈ 2005 کے لیے نامزد کیاگیا ہے۔ ان کا نام دنیا کے پینسٹھ میئروں کی فہرست میں ہے جن میں سے کسی ایک کا انتخاب ہوگا۔ دی ورلڈ میئرز پروجیکٹ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جس نے دنیا کے شہروں کے میئرز کی ہمت افزائی کے لیے یہ ایوارڈ شروع کیا ہے۔ تنظیم نے دنیا کے کل پانچ سو پچاس میئرز کے کوائف جمع کیے جن میں ایشیا میں سے نو میئر شامل ہیں۔ اس فہرست میں سے پینسٹھ میئرز کو ابتدائی طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں سے تہران کے میئر ایران کے صدر منتخب ہو چکے ہیں جبکہ میکسیکو کے سٹی میئر اپنے عہدے استعفیٰ دیکر اپنے ملک کی صدارت کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اٹلی کے شہر وینس اور کراچی کے نامزد مئیر اب اپنے عہدوں سے ہٹ چکے ہیں۔ یہ ایوارڈ لوگوں کی خدمت اور اپنے شہروں کا وقار بلند کرنے کی بنیاد پر دیا جائےگا۔ گزشتہ سال یہ ایوارڈ البانیہ میں تِرانا شہر کے میئر ایدی رما کو دیا گیا تھا جب کہ مکیسیکو کے میئر اینڈرس منیویل لوپز دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ ایوارڈ کا اعلان رواں سال دسمبر میں کردیا جائےگا۔ ایوارڈ ایسے میئر کو دیا جائے گا جنہوں نے شہر کی بہتری کے لیے ہمت، روشن خیالی اور دانش کا مظاہرہ کیا ہو۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ستر سالہ نعمت اللہ خان کا نام دنیا کے پانچویں بڑے شہر کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ ایوارڈ کمیٹی کے مطابق نعمت اللہ خان نے محدود وسائل کے باوجود بچوں، خواتین اور فلاح عام کے منصوبوں پر عمل کیا اور ان کو وقت پر پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اچھی انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور تفریح کے لیے پبلک پارک قائم کیے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نعمت اللہ خان اگست انیس سو سینتالیس میں اجمیر سے پاکستان آئے اور کراچی میں رہائش اختیار کی۔ نعمت اللہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ نعمت اللہ خان انیس سو ستاون میں جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے تھے۔ انہوں نے تین مرتبہ اسمبلی کا الیکشن لڑا لیکن ایک ہی مرتبہ غیر جماعتی انتخابات میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کراچی سے پیار ہے کیونکہ اس شہر نے انہیں بہت کچھ دیا ہے۔ ’میری کوشش ہے کہ میں اس شہر کو کچھ نہ کچھ لوٹا دوں۔‘ بطور سٹی میئر انکا کہنا ہے کہ ان کی چھ ترجیحات تھیں جن میں پینے کا پانی، نکاسی آب، ٹراسپورٹ، تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر شامل تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ نئے بلدیاتی نظام سے قبل کراچی کا بجٹ صرف پانچ سے چھ ارب روپے تھا لیکن انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پہلا بجٹ بیس ارب روپے، دوسرا ستائیس ارب اور تیسرا بتیس ارب کا پیش کیا اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ واضح رہے کہ نعمت اللہ خان ان دنوں کراچی میں حکمران اتحاد کی جماعت ایم کیو ایم کی شدید تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اور ان کے خلاف پبلک پارک سے متعلق دو ریفرنس بھی نیب کو بھیج دیئے گئے ہیں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||