BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 July, 2005, 07:48 GMT 12:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے ارکان اسمبلی پر مقدمہ

ایم کیو ایم کا جلسہ
کراچی میں ایم ایم اے اور ایم کیو ایم سیاسی حلیف ہیں
متحدہ قومی موومنٹ کی رہنما نسرین جلیل پر حملے کے الزام میں تین اراکین اسمبلی سمیت ایم ایم اے کے تین سو کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیاگیا ہے۔ ایم ایم اے کے ارکان نے الزامات کی تردید کی ہے۔

کراچی ایئرپورٹ پولیس کے مطابق ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی رکن نسرین جلیل نے بعض رہنماؤں کے ہمراہ سنیچر کی شب شاہراہ فیصل پر واقع ایئرپورٹ تھانے پہنچ کر ٹاؤن افسر کے ذریعے انگریزی میں تحریری درخواست دی۔

مقدمہ میں سبکدوش ہونے والے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے علاوہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے تین اراکین اسمبلی لئیق احمد، نصراللہ شجیع اور یونس بارائی سمیت تین سو افراد کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔

نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ وہ اسی فلائیٹ میں سفر کر رہیں تھیں جس میں سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے علاوہ وفاقی وزیر فیصل صالح حیات اور متحدہ کے رکن اسمبلی حیدر رضوی بھی سفر کر رہے تھے۔

ان کے مطابق لاؤنج سے باہر نکلتے وقت انہوں نے وہاں موجود ایم ایم اے کے اراکین اسمبلی کو سلام کیا اور پھر وہ جیسے ہی آگے بڑھیں تو پیچھے سے نعرہ بازی کی گئی جس کا مقصد انہیں ڈرانا دھمکانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے عملے نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور نعرے بازی کرنے والے کارکنوں کے نرغے سے باہر نکالا۔

نسرین جلیل نے بتایا کہ باہر ان کی گاڑی کو بھی جماعت اسلامی کے کارکن گھیرے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان، نصراللہ شجیع اور لئیق احمد بھی وہیں موجود تھے اور اگر وہ چاہتے تو ان کارکنوں کو روک سکتے تھے۔

ایم ایم اے کے ارکان اسمبلی نصراللہ شجیع، یونس بارائی اور حمیداللہ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حملے اور بدتمیزی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ’ہم سیاسی اور جمہوری آداب، اخلاقیات اور تحمل و برداشت کے حامل لوگ ہیں اور ہم خواتین کا احترام کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ نسرین جلیل ایئرپورٹ سے جب باہر آئیں تو نعمت اللہ کے استقبال کے لیے آنے والے لوگ ’حکمرانوں کی دہشتگردی، قاتلوں اور دہشتگردوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ نسرین جلیل کی آمد کے بعد بھی یہ نعرے لگتے رہے اور وہ مسکراتی ہوئی باہر نکلیں اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد