ناظمین کے خلاف مزید مقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کی حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے حامی دس ناظمین کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات قومی احتساب بیورو یعنی ’نیب‘ اور انسداد رشوت ستانی کے صوبائی محکمے کو بھیج دیئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صوبے بھر کے ناظمین کے خلاف بدعنوانی کے مختلف الزامات کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام الرحیم نے صوبے کے تمام اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کے ناظمین کے خلاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بھی بدعنوانی میں ملوث پایاگیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران اگر کوئی بھی سرکاری ملازم بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائےگی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیات نے کراچی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان، تین تحصیل اور سات یونین کونسل کے ناظمین کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس ’نیب‘ اور صوبائی ’اینٹی کرپشن، کے ادارے کو بھیج دیئے ہیں۔ حکومت سفارشات میں کم از کم تین ایسے مقدمات بھی شامل ہیں جو اندرون سندھ کے ناظمین کے خلاف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے خلاف دو ریفرنس ’نیب‘ کو بھیجےگئے ہیں۔ جن میں ماڈل پارک کی تعمیر اور شہر میں اشتہاری بورڈز پر ٹیکس کی وصولی میں بدعنوانی کے الزامات بھی شامل ہیں۔ ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل کنڈیارو، ضلع لاڑکانہ کے شہر ڈوکری اور کراچی کی تحصیل اورنگی کے ناظمین، اور چھ یونین کونسلوں کے ناظمین کے خلاف مقدمات صوبے کی اینٹی کرپشن پولیس کو روانہ کیےگئے ہیں۔ جن ناظمین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمات بھیجے گئے ہیں ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سے ہے۔ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے بلدیات، وسیم اختر نے ریفرنسز متعلقہ محکمہ جات کو بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب معاملات عدالت میں جائیں گے اور انہیں ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ناظمین آئندہ مجوزہ انتخابات میں دوبارہ حصہ لیتے ہیں اور فیصلہ ان کے خلاف آیا تو انہیں نااہل قرار دیا جائےگا۔ مشیر کے مطابق اگر یہ لوگ دوبارہ منتخب ہوگئے تو بھی ان کو نا اہل قرار دیا جائے گا۔ دریں اثناء صوبے کی سب سے بڑی عدالت ’سندھ ہائی کورٹ‘ نے ضلع سانگھڑ کے سابق ناظم، روشن جونیجو کو چار سال کے لئے نااہل قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس ضلع کے ناظم روشن جونیجو کو تین ماہ قبل تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||