BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2004, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناظم کے ہاتھوں صحافی کا قتل

پاکستان میں صوبہ سرحد کے شمالی پہاڑی علاقے مانسہرہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مقامی ناظم نے ایک صحافی کو جمعرات کی صبح مبینہ طور پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس اس سلسلے میں ناظم کی تلاش کر رہی ہے البتہ اس نے اس کے بھائی اور بیٹے کو حراست میں لے لیا ہے۔

متوفی کے بھائی نے ایف آئی آر میں ناظم کے بھائی اور بیٹے کو بھی نامزد کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے بھائی اور بیٹے کو گرفتار کرنے کے علاوہ آلہِ قتل کے ساتھ اس واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی ہے۔

مانسہرہ پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح ایبٹ آباد روڈ پر پرانے لاری اڈے کے قریب پیش آیا جب گھر لوٹ رہےایک مقامی صحافی ساجد تنولی پر مبینہ طور پر سٹی نمبر تین کے ناظم خالد جاوید نے گولی چلا دی۔ تیس بور کے پستول سے چلی تین گولیاں متوفی کو گردن، چھاتی اور پیٹ میں لگیں جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگیا۔

پینتیسں سالہ ساجد تنولی ایبٹ آباد سے شائع ہونے والے اردو کے ایک مقامی روزنامہ اخبار شمال کے لئے کام کرتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی نے ملزم کے خلاف مبینہ طور پر شراب کا کاروبار کرنے سے متعلق ایک خبر شائع کی تھی جوکہ قتل کی وجہ ہوسکتی ہے۔

پولیس تھانہ مانسہرہ کے اہلکار مختار کے مطابق ساجد تنولی نے دو ماہ قبل ہی صحافت شروع کی تھی۔ اس کے مطابق اس پر پہلے سے مختلف نوعیت کے دو تین مقدمے چل رہے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد