’کراچی: اپنا کہنے والا کوئی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے مدت پوری کرکے جانے والے ضلعی ناظم نعمت اللہ نے کہا ہے کہ کراچی ایسا بدنصیب شہر ہے جسے اپنا کہنے والا کوئی نہیں اور سندھ کے گورنر اور وزیراعلی اسے اپنا شہر نہیں کہتے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نعمت اللہ خان آج لاہور میں ان کی پارٹی کی طرف سے منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ نعمت اللہ نے کہا کہ وہ تفصیل سے پنجاب اور سرحد کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے آج لاہور میں اپنے چار سال کے دور میں کراچی میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کی ایک لمبی فہرست گنوائی۔ نعمت اللہ نے کہا کہ لاہور میں وزیراعلی اور گورنر اسے اپنا شہر کہتے ہیں اور اس شہر میں اسے اپنا سمجھنے کا احساس ہے (سینس آف اونرشپ) ہے جو کراچی میں نہیں۔ کراچی کے سابق ناظم نے کہا کہ کراچی ان کا محسن ہے، وہ اس شہر میں جب انیس سو اڑتالیس میں آئے تو ایک رات سڑک پر گزاری اور بہت عرصہ جھونپڑی میں رہے جہاں ان کی ایک بہن کی شادی بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے بعد انہیں سب کچھ کراچی نے دیا ہے اور وہ اس شہر کے لیے جتنا بھی کام کریں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے چار سال کی نظامت میں کراچی کے لیے بہت زیادہ کام کیا جس سے سب لوگ خوش ہیں سوائے سندھ کے گورنر اور وزیراعلی کے جو یہ نہیں چاہتے کہ جماعت اسلامی کو کوئی کریڈٹ ملے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر شہر کے لیے کام کیا اور یہ بات درست ہے کہ انہوں نے صدر پرویز مشرف کے حق میں بیان دیے اور صدر مشرف بھی ان کے حق میں کُھل کر بات کرتے تھے۔ نعمت اللہ نے کہا کہ وہ اپنی صحت اور عمر کے پیش نظر اگلا انتخاب نہیں لڑنا چاہتے تھے لیکن لوگوں کے اصرار پر اور اپنے کام کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے وہ اب دوبارہ ناظم کا انتخاب لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’نعمت اللہ جیتیں گے اپنے کام کی وجہ سے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے لیے صدر مشرف سے حمایت کی توقع نہیں رکھتے بلکہ اپنے برتے پر اور اللہ کی مدد سے یہ انتخاب لڑیں گے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نعمت اللہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ مقامی انتخابات میں خونریزی ہوگی کیونکہ ان کے مخالفیں کا یہی طریقہ رہا ہے۔ نعمت اللہ نے کہا کہ نسرین جلیل کو جب مبینہ واقعہ پیش آیا تو وہ اس وقت تک ائرپورٹ سے باہر نہیں نکلے تھے اور وہاں موجود نہیں تھے۔ نعمت اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لوگوں پر الزام غلط ہے کیونکہ وہ تو عورتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||