اڈوانی بائیس سال بعد کراچی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ لال کرشن اڈوانی بائیس برس کے بعد رات کو تقریبا پونے ایک بجے اسلام آباد سے بذریعہ پی آئی اے کی پرواز تین سو سات کراچی پہنچے۔ کراچی میں قائداعظم ہوائی اڈے پر ایم کیو ایم کے پارلیمانی پارٹی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، صوبائی وزرا شعیب بخاری اور نادر اکمل نے ان کا استقبال کیا۔ کراچی میں اپنے دو روز قیام کے دوران ایل کے ایڈوانی سنیچر کی صبح کو محمد علی جناح کی مزار پر حاضری دیں گے جس کے بعد وہ اپنے سابقہ اسکول سینٹ پیٹرکس جائینگے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایل کے ایڈوانی کو سکول کی کچھ یاد تصاویر تحفے میں دی جائینگی۔ ایل کے ایڈوانی سندھ کے گورنر عشرت العباد اور وزیر اعلی سے بھی ملاقات کرینگے۔ جب کہ ایم کیو ایم اور بینظیر بھٹو کے سسر کی جانب سے ان کو استقبالیے دیے جائینگے۔ ایل کے ایڈوانی پا ک بھارت بٹوارے کے بعد انیس سو اٹہتر میں پہلی مرتبہ اپنی پیدائش کے شہر کراچی آئے تھے۔ پاک بھارت حالات کشیدہ ہونے کے بعد کچھ عرصہ قبل مقامی اخبارت میں یہ خبریں آئیں تھیں کہ ایل کے ایڈوانی کے خلاف کراچی کے تھانے جمشید کوارٹر میں ایک ایف آئی آر درج ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دس ستمبر انیس سو سینتالس کو محمد علی جناح پر قاتلانہ حملے کی سازش کی تھی۔ سندھ کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم نے گذشتہ دن اس مقدمہ سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی مقدمہ درج نہیں ہے جبکہ دفتر خارجہ بھی اس کی تردید کرچکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||