ایڈوانی، شوکت ہم مکتب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم شوکت عزیز اور بھارت میں حزب اختلاف کے قائد اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ ایل کے ایڈوانی کراچی کے ایک ہی سکول میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف دونوں رہنماوں کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا۔ ایڈوانی حکومت پاکستان کی دعوت پر پیر کی رات چالیس رکنی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے تھے۔ شوکت عزیز سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایل کے ایڈوانی نے بتایا کہ وہ کراچی میں شوکت عزیر کے ساتھ سینٹ پیٹرکس سکول میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی میں سن انیس چوبیس کو پیدا ہونے والے ایڈوانی کی مادری زبان سندھی ہے اور وہ تقسیم ہند سے قبل صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں خاصا وقت گزار چکے ہیں۔ ایل کے ایڈوانی دوسری بار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل 1979 میں پاکستان آئے تھے جب وہ بھارت کے وزیر اطلاعات تھے۔ اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کے علاوہ تجارتی روابط بھی مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ شوکت عزیز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق اس طرح طے ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان اور بھارت کو بھی قابل قبول ہو۔ انہوں نے ایل کے ایڈوانی کے ساتھ اپنی ملاقات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ بی جے پی کے سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ ان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات کے عمل کو تیز کرنے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی جے پی حکومت نے پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کئے تھے اور موجودہ کانگریس حکومت نے ان مذاکرات کو جاری رکھا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اس مسئلے کے حل کے لیے وقت کا تعین کریں گے تو ایڈوانی نے کہا کہ کیونکہ اب ان کی جماعت حکومت میں نہیں ہے لہذا وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہ سکتے۔ ایڈوانی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستانی حکومت کے اس موقف کی حمایت کرتی ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کے لیے ایک ساتھ کوششیں کرنی چاہئیں۔ وہ اپنے پانچ روزہ دورے کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف کے علاوہ دیگر حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔ ایڈوانی کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی حریت کانفرنس کے کچھ رہنما بھی پاکستان آئیں گے۔ پاکستان میں جناب ایڈوانی کو ایک قدامت پسند ہندو رہنما سمجھا جاتا ہے اور بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں کوئی بھی پائیدار حل اس وقت ہی ممکن ہوسکتا ہے جب حزب اختلاف کی بڑی جماعت بی جے پی اور اس کے قدامت پسند ہندو سوچ رکھنے والے تسلیم کریں گے۔ چند برس قبل جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات کشیدہ تھے تو پاکستان کے اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئیں تھیں کہ ایل کے ایڈوانی حکومت پاکستان کو حیدرآباد میں ان کے خلاف داخل ایک مقدمے میں مطلوب ہیں۔اس مقدمے کے مطابق وہ قائد اعظم محمد علی جناح پر مبینہ حملے کی پلاننگ میں ملوث تھے۔ ایڈوانی نے اپنے دورے کے دوران حیدرآباد بھی جانا تھا مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے حیدرآباد جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔ پاکستان کے صدر پرویز مشرف جب گزشتہ اپریل میں ہندوستان دورے پر گئے تھے تو انہوں نے مسٹر ایڈوانی کو تحفے میں ان کے سکول کا سرٹیفکٹ اور کچھ یادگار تصویریں دی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||