پاک بھارت دفاعی مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے اونچے ترین میدان جنگ ’سیاچین گلیشیر‘ اور سمندری تنازعے ’سرکریک‘ پر بات چیت کے لیے بھارت کے سیکریٹری دفاع اجے وکرم سنگھ کی سربراہی میں وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق جامع مذاکرات کے سلسلے میں جاری بات چیت کے سلسلے میں چھبیس اور ستائیس کو سیاچین کے معاملے پر جبکہ ستائیس اور اٹھائیس مئی کو سرکریک کے مسئلے پر دونوں ممالک کے وفود مذاکرات کریں گے۔ ان دونوں موضوعات پر ابتدائی بات چیت کا ایک دور پہلے بھی ہوچکا ہے اور دونوں ممالک نے تجاویز کا تبادلہ کیا تھا۔ سرکریک پر تو پیش رفت ہوئی تھی لیکن سیاچین گلیشیر پر فوج کی کمی اور دیگر معاملات کے حل میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ سیاچین پر فوج رکھنے پر دونوں ممالک کو بھاری اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں اور اب خیال کیا جاتا ہے کہ شاید وہ دنیا کے انچے اور مہنگے ترین جنگی مقام سے اگر کلی طور پر نہیں تو جزوی طور پر فوج کم کرنے پر اتفاق کرلیں۔ گزشتہ مارچ میں پارلیمنٹ میں بحث ومباحثے کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیردفاع پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ سیاچن کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہوئی تھی لیکن سرحد سے پوری طرح سے فوج کو واپس بلانے پر دونوں جانب سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے سرویئر جنرل نے گزشتہ جنوری میں متنازعہ سرکریک کا سروے کیا تھا اور برجیاں بھی لگائی تھیں۔ متعلقہ حکام نے فروری میں اپنے سروے کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے اسے کمپیوٹرائیز بھی کردیا تھا۔ سرکریک کا علاقہ بھارتی علاقے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے جس کی لمبائی ساٹھ میل ہے۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے چھ دور ہوئے ہیں مگر اس علاقے کی ملکیت کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا۔ سر کریک کے تنازعے کی وجہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں اور اسی لیے اس سے دستبردار ہونے کے لیے نہ بھارت تیار ہے اور نہ پاکستان۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||