کشن گنگا مذاکرات بے نتیجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل لاہور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر میں دریائے نیلم پر بنائے جانے والے کشن گنگا ڈیم پر بات چیت میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ تاہم مذاکرات کا اگلا دور دلی میں مئی کے آخری ہفتہ میں ہوگا۔ لاہور کے نیسپاک ہاؤس میں پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنروں، جماعت علی شاہ اور ڈی کے مہتا، کی سربراہی میں دونوں وفود کے درمیان اس معاملہ پر مذاکرات کے تیسرے دور کے آخری روز آٹھ گھنٹے بات چیت ہوئی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں نے صحافیوں سے بات چیت کی۔ بھارت کے انڈس کمشنر ڈی کے مہتا نے کہا کہ ڈیم کے ڈیزائن پر پاکستان نے کچھ اعداد و شمار مانگے ہیں جنہیں جمع کرکے وہ دلی میں ہونے والی بات چیت کے اگلے دور میں پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ اعداد و شمار وہ ہیں جو پاکستان نے پہلے بھی مانگے تھے اور کچھ اس دفعہ بات چیت کے دوران میں اضافی اعداد وشمار کی ضرورت سامنے آئی جن پر غور کرنا پڑے گا۔ ڈی کے مہتا نے کہا کہ اتفاق رائے کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسا ڈیم بنایا جائے جو دونوں ملکوں کے لیے قابل قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے کی خاطر اگر ڈیم کے ڈیزائن میں کوئی تبدیلی بھی کرنی پڑی تو بھارت کو ایسا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کے مطابق ڈیم کا ڈیزائن تیار کیا ہے لیکن پاکستان نے اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ میں کسی منصوبہ پر بات چیت کے دوران میں کام روک دینے کی کوئی شق نہیں ہے۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ مذاکرات کے گزشتہ دور میں پاکستان نے ڈیم کے ڈیزائن پر چھ سوالات اٹھائے تھے کہ تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ان پر بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں آٹھ مئی اور نو مئی کو ڈیم کے ڈیزائن پر اٹھائے گئے سوالات پر بحث ہوئی لیکن دونوں کا کسی نکتہ پر اتفاق نہیں ہوسکا اور نہ کوئی تنازعہ حل ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ اگلے دور میں جس میں انڈس واٹر کمیشن کا سالانہ اجلاس بھی ہوگا کشن گنگا پروجیکٹ سے متعلق ان نکات پر اور باقی ماندہ نکات پر بات چیت ہوگی۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ آج ہم نے جو طے کیا ہے اس کا ریکارڈ بنایا جارہا ہے اور اگر ان سوالات کو ہم آگے لے کر چل سکے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بھارت کو باور کرایا ہے کہ کم سے کم مدت میں یہ بات چیت مکمل ہونی چاہیے۔ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق کسی تنازعہ کے حل کا میکانزم یہ ہے کہ پہلے اسے کمیشن کی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو عدالت میں جایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے اس دور میں اتفاق رائے نہ ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تکنیکی نوعیت کا معاملہ ہے جس میں اعداد و شمار کی ضرورت ہے وہ فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتے اور دوسرے کسی فریق کو اپنی حکومت سے مشاورت کی ضرروت پڑ جاتی ہے۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ بھارتی وفد نے پاکستان کو ڈیم کی تعمیر سے متعلق صورتحال کے بارے میں بتایا ہے کہ ابھی تک پانی کا رخ نہیں موڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سرنگ کی کھدائی شروع کی گئی ہے اور زیر زمین پن بجلی گھر کی تعمیر کے لیے کھدائی کا کام شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیم گریز وادی میں بنایا جارہا ہے جہاں برف پڑتی ہے اور مئی کے آخر میں ہی کام دوبارہ دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈیم کے معائنہ کے لیے ٹائم فریم مانگا ہے اور جون یاجولائی میں پاکستانی وفد کشن گنگا پروجیکٹ کے معائنہ کے لیے جائے گا جبکہ بھارت کا وفد فورا بعد نیلم جہلم منصوبہ اور نیلم وادی منصوبہ کے معائنہ کے لیے آئے گا۔ کشن گنگا ڈیم پروجیکٹ تین سو تیس میگا واٹ پن بجلی کا منصوبہ ہے جو دریائے نیلم پر بنایا جارہا ہے جسے بھارت میں دریائے کشن گنگا کہتے ہیں۔ اس منصوبہ کا آغاز انیس سو چورانوے میں کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||