پاک، بھارت: کشن گنگا پر بات چیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے کمشنر سندھ طاس نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کشن گنگا پاور پراجیکٹ کے بارے میں پاکستان کے خدشات دور نہ ہوسکے تو سندھ طاس معاہدے کے اندر رہتے ہوئے کشن گنگا پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ لاہور میں اتوار کو کشن گنگا ہائیٹدرو پاور پراجیکٹ کے بارے میں بھارت اور پاکستان کے آبی ماہرین اور انـجینئروں نے با ضابطہ مذاکرات کے پہلے دن ایک دوسرے سے بات چیت کی۔یہ مذاکرات تین روز تک جاری رہیں گے۔ کشن گنگا پراجیکٹ پر یہ مذاکرات کا تیسرا دور ہے۔ اس سے پہلے بھی نومبر میں فروری میں دہلی اور نومبر میں لاہور مذاکرات کے دو راؤنڈ ہو چکے ہیں۔ آٹھ رکنی بھارتی ٹیم کی قیادت انڈیا کے انڈس واٹر کمشن کے سربراہ ڈی کے مہتا کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں ان کے ہم منصب جماعت علی شاہ پاکستانی ماہرین کے ہمراہ ان سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ دوپہر کو وقفے کے دوران دونوں ٹیموں کے سربراہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ مذاکرات دوستانہ ماحول میں جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے کمشنر سندھ طاس سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کو اس پراجیکٹ کے ڈیزائن اور دریاۓ نیلم کے رخ کو موڑنے کے معاملے پر تحفظات ہیں کیونکہ ان کے بقول پاکستان کے مستقبل کے آبی منصوبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے انہیں معاہدے کے مطابق مکمل معلومات بھی فراہم نہیں کی ہیں اور پاکستان نے اس کابھی مطالبہ کیا ہے۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں لیکن اختلافات کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پرغور جاری ہے۔ بھارتی کمشنر سندھ طاس ڈی کے مہتا نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انہیں دریاۓ جہلم کے پانی کے مختصر ذخیرے کا حق حاصل ہے لیکن وہ سندھ اور جہلم کے پانی اور آبی ذخائر پر پاکستان کے حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کے زراعت اور توانائی کے حصول کے لیے پانی کے حق کاتحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کے خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان مطمئن نہیں ہوا توکیا کشن گنگا ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کی جاسکتی ہے تو ڈی کے مہتا کاکہنا تھا کہ اگر ضروری ہوا تو سندھ طاس معاہدے کے اندر رہتے ہوۓ ڈیزائن میں تبدیلی کے بارے میں بھی سوچا جاسکتاہے۔ تین سو تیس میگا واٹ کا یہ پاور پراجیکٹ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں دریاۓ نیلم پر زیر تعمیر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پاور پراجیکٹ کی تعمیر مکمل ہونے کی صورت میں اس کا پانی بائیس کلومیٹر لمبی سرنگ سے گذرتا ہوا وولر جھیل میں جاگرے گا جو دریاۓ جہلم کے ہی راستے میں ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دریا کا رخ موڑنے سے اس کے مستقبل کے ان آبی منصوبوں پر اثر پڑے گا جو وہ دریاۓ نیلم اور جہلم پر بنانا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ دریا کا رخ موڑنے کے لیے پانی کا ذخیرہ بھی کیا جا رہا ہے جو پاکستانی موقف کے مطابق سندھ طاس کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کار نے حالیہ دور کو مثبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||